زیدنےبکرسےکچھ سامان خریداسامان خریدنےکےبعدزیدنےبکرسےکہاکہ یہ جوکچھ میں نے خریدا ہے یہ آپ خالدکوتونسہ شریف بھیج دوتاکہ و ہ غریبوں میں اس کوتقسیم کرے۔دوسری صورت یہ ہےکہ زیدبکرکورقم دیکریہ کہتاہےکہ ان پیسوں سےفلاں فلاں سامان (جو کہ معروف ہیں جنکی قیمت بھی معلوم ہے) خالدکوبھیج دو تاکہ و ہ غریبوں میں اس کوتقسیم کرے ۔اب صورت یہ پیش آئی کہ بکر نےخالدکو بِلٹی کے ذریعےسامان بھیج دیا اوربِلٹی وصول کرکےوہ رسیدخالدکوبھیج دی اور خالد اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ واقعی رسید میرےپاس پہنچی ہےلیکن بعدمیں وہ رسیدخالدسےگم ہوجاتی ہےاوراب سامان بھی اڈےمیں موجود نہیں اب مذکورہ دونوں صورتوں میں کوئی فرق ہےاورمذکورہ صورتوں میں ضمان کس پر ہوگا؟
الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُه،وهبة بن مصطفى الزحيلي (م:8/اگست/2015ء)(5/4110) دار الفكر
والوكيل أمين سواء أكانت الوكالة بجعل أم بغير جعل؛ لأن الوكيل نائب عن الموكل في اليد (أي الحيازة) والتصرف، فكان الهلاك في يده كالهلاك في يد المالك، فلا يضمن ما تلف في يده بلا تعد۔
الفتاوی التاتارخانیة،فرید الدین الدهلوی (م:786هـ) (8/263) فاروقیه کوئتة
(مسئله:11845)إذا قال المشتري للبائع : ابعثه إلی إبنی، واستأجر البائع رجلا يحمله إلی إبنه، فهذا لیس بقبض، والأجر علی البائع، إلا أن یقول: استاجر علی من يحمله، فقبض الأجیر یکون قبض المشتری إن صدقه أنه استاجر ودفع إلیه، وإن أنکر استئجاره والدفع إلیه، فالقول قوله، وعن أبي یوسف: إذا قال للبائع: هبه لفلان، أو تصدق به، ففعل صار قابضا۔