بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

فروخت کنندہ نے سامان ٹرانسپورٹ کمپنی کے حوالہ کرکے رسید/بلٹی متعلقہ شخص کے سپرد کردی پھر رسید گم ہوئی اور سامان بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کے پاس موجود نہیں، نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟

سوال

زیدنےبکرسےکچھ سامان خریداسامان خریدنےکےبعدزیدنےبکرسےکہاکہ یہ جوکچھ میں نے خریدا ہے یہ آپ خالدکوتونسہ شریف بھیج دوتاکہ و ہ غریبوں میں اس کوتقسیم کرے۔دوسری صورت یہ ہےکہ زیدبکرکورقم دیکریہ کہتاہےکہ ان پیسوں سےفلاں فلاں سامان (جو کہ معروف ہیں جنکی قیمت بھی معلوم ہے) خالدکوبھیج دو تاکہ و ہ غریبوں میں اس کوتقسیم کرے ۔اب صورت  یہ پیش آئی کہ بکر نےخالدکو بِلٹی کے ذریعےسامان بھیج دیا اوربِلٹی وصول کرکےوہ رسیدخالدکوبھیج دی اور خالد اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ واقعی رسید میرےپاس پہنچی ہےلیکن بعدمیں وہ رسیدخالدسےگم ہوجاتی ہےاوراب سامان بھی اڈےمیں موجود نہیں اب مذکورہ دونوں صورتوں میں کوئی فرق ہےاورمذکورہ صورتوں میں ضمان کس پر ہوگا؟

جواب

بکر(بائع)پرضمان لازم نہیں البتہ اگربِلٹی کی رسیدخالدکی غفلت اورکوتاہی کی وجہ سےگم ہوئی ہےتواس صورت میں خالد پر ضمان لازم ہوگا ورنہ نہیں۔
الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُه،وهبة بن مصطفى الزحيلي (م:8/اگست/2015ء)(5/4110) دار الفكر 
والوكيل أمين سواء أكانت الوكالة بجعل أم بغير جعل؛ لأن الوكيل نائب عن الموكل في اليد (أي الحيازة) والتصرف، فكان الهلاك في يده كالهلاك في يد المالك، فلا يضمن ما تلف في يده بلا تعد۔
الفتاوی التاتارخانیة،فرید الدین الدهلوی (م:786هـ) (8/263) فاروقیه کوئتة
(مسئله:11845)إذا  قال المشتري للبائع : ابعثه إلی إبنی، واستأجر البائع رجلا يحمله إلی إبنه، فهذا  لیس بقبض، والأجر علی البائع، إلا أن یقول: استاجر علی من يحمله، فقبض الأجیر یکون قبض المشتری إن صدقه أنه استاجر ودفع إلیه، وإن أنکر استئجاره والدفع إلیه، فالقول قوله، وعن أبي یوسف: إذا قال للبائع: هبه لفلان، أو تصدق به، ففعل صار قابضا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس