ایک آن لائن پلیٹ فارم ہے فائیور کے نام سے ، جہاں ہم لوگ مختلف کلائنٹس کے لیے کام کرتے ہیں اور پیسے کماتے ہیں، اب فائیور ایک فیچر دیتا ہے جسے وہ کیش ایڈوانس کہتے ہیں۔ یہ لازمی نہیں، مرضی ہو تو بند ہ لے سکتا ہے ورنہ نہ بھی لے تو کوئی مسئلہ نہیں۔اس کا طریقہ کار یہ ہے
مثال کے طور پر فائیور مجھے ۳۰۰۰ ایڈوانس دیتا ہے ، اس کے بدلے فائیور مجھ سے ۳۶۰۰ واپس لیتا ہے، کوئی تاریخ مقرر نہیں کرتا کہ کب واپس کرنا ہے۔ جب بھی میں دوبارہ پلیٹ فارم پر کام کر کے پیسے کماتا ہوں تو فائیور اس کمائی میں سے ۴۰ فیصد کٹوتی کر لیتا ہے ، جب تک کہ پوری رقم واپس نہ ہو جائے ۔ اگر خدانخواستہ اکاؤنٹ بند بھی ہو جائے تو فائیور کوئی جرمانہ یا لازمی وقت مقرر نہیں کرتا۔ فائیور اس کو بزنس گروتھ کے لیے سہولت بتاتا ہے، کہ بندہ اپنا کام آگے بڑھانے کے لیے یہ ایڈوانس استعمال کرے۔
کیا یہ سسٹم شر عاًدرست ہے یا یہ سود (حرام) کے زمرے میں آتا ہے؟
مذکورہ لین دین شرعاً سود ہے، لہذا اجتناب لازم ہے، البتہ آن لائن پلیٹ فارمز پر شرعی اصولوں کے مطابق خدمات حاصل کرنا یا خدمات دینا جائز ہے۔
[البقرة: 276]
{ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ}
مسند أحمد ط الرسالة (6/ 297) مؤسسة الرسالة
حدثنا حجاج، حدثنا شريك، عن الركين بن الربيع، عن أبيه، عن ابن مسعود، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ” الربا وإن كثر، فإن عاقبته تصير إلى قل۔
اعلاء السنن (513/۱۴)
وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف
الدر المختار (5/ 166) دار الفكر-بيروت
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض