میں ایک بیرون ملک میں ہوں اورمیرا بیٹا ایک سکول میں پڑھتاہے اور ا س سکول میں جب بھی کوئی تہوار آتاہےمسلمانوں کا ہو یا غیر مسلموں کا تو اس میں ٹیچر سب کو بلاکر اسٹیج پر کہتے ہیں ہیپی کرسمس ،اور جب ہمارے مسلمانوں کے تہوار آتے ہیں تو وہ اس میں عید مبارک کے کارڈ دیتے ہیں اور جب انڈین کی ہولی کے تہوار آتے ہیں تو اس میں بھی ایک دوسرے کو کارڈ وغیرہ دیتے ہیں ۔اس میں ہمیں کیا کرناچاہیے ان کو ہم روک تو نہیں سکتے ۔ اس کے بارے میں شریعت ہمیں کیا حکم دیتی ہےکہ اس میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔ پلیز راہ نمائی فرماکر ممنون فرمائیں۔
أحكام القرآن للجصاص (2/ 249) قديمي
وقوله تعالى وتعاونوا على البر والتقوى يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى”۔
سنن ابي داؤد (كتاب اللباس ، باب في اللبس الشهرة)
عن ابن عمر ، قال : قال رسول الله ﷺ : من تشبه بقوم فہو منہم۔
الدر المختار (10/52) رشيديه
(والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لا يجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام (وإن قصد تعظيمه) كما يعظمه المشركون (يكفر) قال أبو حفص الكبير: لو أن رجلا عبد الله خمسين سنة ثم أهدى لمشرك يوم النيروز بيضة يريد تعظيم اليوم فقد كفر وحبط عمله اهـ ولو أهدى لمسلم ولم يرد تعظيم اليوم بل جرى على عادة الناس لا يكفر وينبغي أن يفعله قبله أو بعده نفيا للشبهة۔