آج کل عیسائی اور یہودیوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے آپ کو عیسائی اور یہودی کہتے ہیں لیکن نہ تو وہ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور نہ کسی رسول اور آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، یہ لوگ دہریہ ہیں ان سے نکاح درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ وہ دہریہ نہیں ہے اور خدا کے وجود کی قائل ہے اور اپنے نبی پر ایمان رکھتی ہے تو اگر چہ ایسی لڑکی سے کسی مسلمان کا نکاح درست ہے مگر پھر بھی ان سے نکاح سے بچنا چاہیے کیونکہ اس میں نکاح کرنے والے اور اولاد کے بے دین ہونے کا خطرہ ہے۔
رد المحتار(2/227)رشیدیۃ
في الفتح عن الكافي: إن اعتاد القراءة بالفارسية أو أراد أن يكتب مصحفا بها يمنع، وإن فعل في آية أو آيتين لا۔
الاتقان فی علوم القرآن(2/329)رحمانیۃ
وقال البيهقي في شعب الإيمان: من كتب مصحفا فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به هذه المصاحف، ولا يخالفهم فيه ولا يغير مما كتبوه شيئا فإنهم كانوا أكثر علما وأصدق قلبا ولسانا وأعظم أمانة منا فلا ينبغي أن يظن بأنفسنا استدراكا عليهم۔
الاتقان فی علوم القرآن(2/340)رحمانیۃ
وهل تجوز كتابته بقلم غير العربي؟ قال الزركشي: لم أر فيه كلاما لأحد من العلماء۔۔۔۔۔والأقرب المنع كما تحرم قراءته بغير”، لسان العرب، ولقولهم: القلم أحد اللسانين والعرب لا تعرف قلما غير العربي وقد قال تعالى: {بلسان عربي مبين}۔