بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیر مسلم لڑکی سے نکاح کرنا

سوال

اگر کوئی عیسائی یا یہودی لڑکی مسلمان سے بغیر اپنا مذہب تبدیل کیے شادی کرنا چاہے تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

آج کل عیسائی اور یہودیوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے آپ کو عیسائی اور یہودی کہتے ہیں لیکن نہ تو وہ خدا کے وجود کے قائل ہیں اور نہ کسی رسول اور آسمانی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، یہ لوگ دہریہ ہیں ان سے نکاح درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ وہ دہریہ نہیں ہے اور خدا کے وجود کی قائل ہے اور اپنے نبی پر ایمان رکھتی ہے تو اگر چہ ایسی لڑکی سے کسی مسلمان کا نکاح درست ہے مگر پھر بھی ان سے نکاح سے بچنا چاہیے کیونکہ اس میں نکاح کرنے والے اور اولاد کے بے دین ہونے کا خطرہ ہے۔
رد المحتار(2/227)رشیدیۃ
في الفتح عن الكافي: إن اعتاد القراءة بالفارسية أو أراد أن يكتب مصحفا بها يمنع، وإن فعل في آية أو آيتين لا۔
الاتقان فی علوم القرآن(2/329)رحمانیۃ
وقال البيهقي في شعب الإيمان: من كتب مصحفا فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به هذه المصاحف، ولا يخالفهم فيه ولا يغير مما كتبوه شيئا فإنهم كانوا أكثر علما وأصدق قلبا ولسانا وأعظم أمانة منا فلا ينبغي أن يظن بأنفسنا استدراكا عليهم۔
الاتقان فی علوم القرآن(2/340)رحمانیۃ
وهل تجوز كتابته بقلم غير العربي؟ قال الزركشي: لم أر فيه كلاما لأحد من العلماء۔۔۔۔۔والأقرب المنع كما تحرم قراءته بغير”، لسان العرب، ولقولهم: القلم أحد اللسانين والعرب لا تعرف قلما غير العربي وقد قال تعالى: {بلسان عربي مبين}۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس