بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیر مستعمل قبرستان کی زمین کواستعمال کرنا

سوال

کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:محلہ والوں نے مل کر ایک زمین خرید کر قبرستان کے لیے وقف کر دی، لیکن فی الوقت قبرستان کی ضرورت نہیں۔ اب اس جگہ کو محلہ کی مسجد کے امام کے فوائد کے لیے استعمال کرنا، جیسے اس زمین سے کرایہ حاصل کر کے امام صاحب کا گھر بنانا،کیا شرعاً درست ہے؟

جواب

قبرستان کے زمین کے استعمال کا حکم

مذکورہ زمین کی آمدن قبرستان کی ضروریات سے اگر زائد ہو تواسے قبرستان کے متولی کی اجازت سے مسجد کی ضروریات پر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔
الفتاوى الهندية (2/ 476)
سئل نجم الدين في مقبرة فيها أشجار هل يجوز صرفها إلى عمارة المسجد؟ قال: نعم، إن لم تكن وقفا على وجه آخر قيل له: فإن تداعت حيطان المقبرة إلى خراب يصرف إليها أو إلى المسجد قال: إلى ما هي وقف عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متول ولا للمقبرة فليس للعامة التصرف فيها بدون إذن القاضي، كذا في الظهيرية
الدر المختار (4/ 351)
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
رد المحتار (4/ 445)
 أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة
البحر الرائق (5/ 266)
 شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما في شرح المجمع للمصنف
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس