نمبر ۱۔زید نے رمضان یا غیر رمضان میں لوگوں کی افطاری کااہتمام کیا اب زید نے تو روزہ داروں کیلئے صرف اہتمام کیا لیکن اس کی کبھی صراحت نہیں ، اب اگر صائمین میں غیر صائم آدمی بیٹھ کر کھاپی لے تو اس کیلئےیہ کھانا حلال ہے یا نہیں ؟ زید کی عدم صراحت کے باوجود زید اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی غیر صائم آکر صائمین کے ساتھ کھائے ، معلوم ہونے پر غیر صائم کو اٹھا بھی دیتا ہے ؟
نمبر ۲۔زید نے اپنی تقریب ِ نکاح میں نکاح کے بعد ایک ایک ڈبہ مٹھائی حاضرین میں تقسیم کی، حاضرین میں سے بعض نے چپکے سے دو دو یا چارچار ڈبے وصول کرلئے جس کی وجہ سے حاضرین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کو کچھ نہ ملا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک سے زیادہ ڈبے وصول کرنےوالوں کےلئے ایسا کرنا حلال ہے یا حرام ؟ کیا مٹھائی ان کےلئے حلال ہے اور کیا اس وجہ سے یہ آخرت میں مستحق سزا نہیں ہوں گے ؟
نمبر ۳۔مدرسہ میں جو طلباء ناظم مطبخ اور مجلس منتظمہ کی بغیر اجازت کے کوئی چیز اٹھا کر کھالیں یا استعمال کرلیں یا خدمت والے حضرات سالن کی تقسیم سے قبل اچھا گھی والا سالن نکال کرکھائیں کیا ایسا کرنا ان کیلئے حلال ہے یا حرام ؟ کیا ایسا کرنے سے دوسروں کی حق تلفی لازم نہیں آتی ؟۔
نمبر ۱،۲۔صورتِ مسئولہ میں اگر مالک کی طرف سے غیر روزہ دار کو افطار ی میں شرکت اور مٹھائی لینے والوں کو ایک سے زائد ڈبہ لینے کی اجازت نہیں جیسا کہ سوال سے یہی ظاہر ہورہا ہے تو اس صورت میں غیر صائم کیلئے افطاری میں شریک ہونا یا کسی کےلئے مٹھائی کا ایک سے زائد ڈبہ لینا ہرگز جائز نہیں، البتہ اگر افطاری کا اہتمام کرنیوالے اور نکاح کی تقریب میں مٹھائی کے ڈبے تقسیم کرنیوالے کی جانب سے صراحتاًیا دلالۃً اجازت پائی جارہی ہو تو غیر صائم کیلئے افطاری میں شریک ہونے اور تقریب ِ نکاح میں شریک کسی فرد کیلئے ایک سے زائد ڈبے وصول کرنے کی گنجائش ہے ۔
نمبر ۳۔مدرسہ میں پکنے والے کھانے میں تمام طلباء کا حق مشترک ہوتا ہے ۔اسی لئے منتظم کی اجازت کے بغیر سوال میں ذکر کردہ تمام تصرفات ناجائز اور سخت گناہ ہیں ان سے اجتناب ضروری ہے ۔
أحكام القرآن،أبو بكر أحمد بن علي الرازي الجصاص (م:370هـ)(1/344) قدیمي کتب خانه کراتشي
قال الله تعالى: {ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالأثم}…وأكل المال بالباطل على وجهين أحدهما أخذه على وجه الظلم والسرقة والخيانة والغصب وما جرى مجراه والآخر أخذه من جهة محظورة نحو القمار وأجرة الغناء والقيان والملاهي والنائحة وثمن الخمر والخنزير والحر وما لا يجوز أن يتملكه وإن كان بطيبة نفس من مالكه وقد انتظمت الآية حظر أكلها من هذه الوجوه كلها۔
مشكاة المصابيح، محمد بن عبد الله الخطيب (م:741هـ) (ص:255) إسلامي کتب خانه
2814 – وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه ». رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى۔
وفيه(ص:255) إسلامي کتب خانه
3818 – وعن أبي هريرة قال: أهدى رجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم غلاما يقال له: مدعم فبينما مدعم يحط رحلا لرسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أصابه سهم عائر فقتله فقال الناس: هنيئا له الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كلا والذي نفسي بيده إن الشملة التي أخذها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا». فلما سمع ذلك الناس جاء رجل بشرك أو شراكين إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «شراك من نار أو شراكان من نار». (متفق عليه)۔