سوال میں یہ صراحت موجود ہے کہ طلاق نامہ میں طلاقِ بائن سے تین طلاقیں مراد لی گئیں اور طلاقِ بائن میں تین طلاقوں کی نیت شرعاً معتبر ہے اس لئے صورتِ مسئولہ میں جب شوہرنے منسلکہ طلاق نامہ کو سن کر اس پر دستخط کئے ہیں تواس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اب وہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں ،نہ تو وہ دونوں آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیانکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔
الفتاوى الهندية(1/373)دارالفكر
(الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول) إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها۔
الهداية،علي بن أبي بكرالفرغاني المرغيناني(م: 593هـ)(1/235)احياءالتراث
قال:”وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا كانت بثلاث وإن نوى ثنتين كانت واحدة بائنة وهذا مثل قوله أنت بائن وبتة وبتلة..۔
المحيط البرهاني،برهان الدين محمود بن أحمد البخاري(م: 616هـ)(3/239)العلمية
ولو قال لها: أنت طالق ألبتة، أو قال لها: أنت طالق بائن تقع تطليقة واحدة بقوله:أنت طالق نوى الطلاق أولم ينو… ولو نوى بقوله ألبتة ثلاثاً تقع ثلاث تطليقات كما لو قال ابتداءً: أنت بائن أنت بتة.فقط۔