بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غیررہائشی مدرسہ کوزکوٰۃ اورکھالوں کی رقم دینا

سوال

ایک مدرسہ میں مقامی بچےزیرتعلیم ہیں۔ناظرہ وحفظ کی متعددکلاسیں لگتی ہیں۔اس مدرسہ کےپاس قریب میں اورمدرسہ نہیں ہے،بقول مہتمم صاحب کےاہل علاقہ بالکل تعاون نہیں کرتے،کیاوہ مدرسہ کےانتظام چلانےکےلئےزکوٰۃ اورچرمہائےقربانی کی مدمیں حاصل شدہ رقم ،بطورتملیک یابغیرتملیک بچوں کی تعلیم وتربیت پرخرچ کرسکتےہیں؟

جواب

زكوٰة كی رقم مستحقِ زکوٰۃ شخص کو مالک بناکر دیناشرعاً لازم ہے ،صرف طلبہ کی تعلیم وتربیت پر خرچ کرنے سے زکوٰۃ ادانہیں ہوتی ، البتہ جہاں مدرسہ کی واقعی ضرورت ہواور زکوٰۃ وصدقاتِ واجبہ کے علاوہ دوسرے مدکی رقم میسر نہ ہویاناکافی ہوتوزکوٰۃاورچرمہائے قربانی کی مدمیں حاصل شدہ رقم تملیک کے بعد طلبہ کی تعلیم وتربیت پرخرچ کرنے کی گنجائش ہے اور تملیک کابے غبار طریقہ یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص سے یہ کہاجائے کہ’’تم کسی سے اتنی رقم لے کرمدرسہ میں عطیہ کے طورپر دے دو،اس قرض کی ادائیگی میں تمہاری مددکی جائے گی۔‘‘چنانچہ وہ شخص کسی سے قرض لے کر مدرسہ میں دیدے ،بعدمیں زکوٰۃیاچرمہائے قربانی کی رقم سے اس کی مددکی جائے اس طرح کرنے سے زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی اور اس شخص نے قرض لے کر جو مدرسہ میں چندہ دیااسے تعلیم وتربیت پرخرچ کرنابھی جائزہے۔
المبسوط،محمدبن شمس الأئمة السرخسي(م: 483هـ)(2/202 بيروت
ولايحصل الإيتاء إلا بالتمليك فكل قربة خلت عن التمليك لاتجزي عن الزكاة۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(2/344)سعيد
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)۔
الفتاوى الهندية (1/188)دارالفكر
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس