بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غيرتجارتی زمین پرزکوۃ نہیں

سوال

نمبر۱۔کسی شخص نےاپنی اولادمثلاًبیٹی کےنام سےکوئی زمین خریدی اورکچھ وقت اس کو اپنے پاس رکھا،پھراس کےسپردکردی تو ان دونوں صورتوں میں یعنی جب وہ زمین اس کےقبضہ میں تھی اورجب بیٹی کےقبضہ میں آئی توان صورتوں میں کیااس پرزکوۃہےیانہیں ؟اس زمین میں تجارت کی نیت نہیں کی ۔
نمبر۲۔کسی شخص نےکوئی زمین خریدی اورخریدتےوقت نہ تجارت کی نیت تھی اورنہ ہی اس پرعمارت بنانےکاکوئی ارادہ تھا۔کیااس زمین پرزکوۃ آئے گی؟

جواب

نمبر۱،۲۔مذکورہ زمین چونکہ فروخت کرنےکی نیت سےنہیں خریدی گئی ،اس لئےاس پرزکوۃ واجب نہیں۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م: 1088هـ)(1/ 128)سعيد
 والاصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكى بنية التجارة بشرط عدم المانع المؤدي إلى الثني وشرط مقارنتها لعقد التجارة وهو كسب المال بالمال بعقد شراء أو إجارة أو استقراض ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه
  حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح،أحمد بن محمد الطحطاوي(م: 1231 هـ )(ص: 718)العلمية
  قوله: “ولا زكاة في الجواهر واللآلىء” قال في الدر الأصل أن ما عدا الحجرين والسوائم إنما يزكي بنية التجارة عند العقد فلو نوى التجارة بعد العقد أوا شترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه اه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس