میں نےایک مسئلہ میں آپ سےراہ نمائی لینی تھی ۔میں زمانہ طالب علمی میں جب لاء پڑھ رہاتھاتومیرےاستادنےمجھے بتایاکہ ایک نشست میں تین بارطلاق ہونےکےباوجوداسےایک بارسمجھاجاتاہے۔ میں اس بات کویقین کےساتھ کہہ سکتاہوں کہ میں نےجب اپنی بیوی کوتین الگ الگ الفاظ میں طلاق دی، تو میرےذہن میں یہی تھاکہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی ۔میں حلفاًیہ بات کہتاہوں کہ میرامقصدہرگزاپنی بیوی کومکمل طورپرفارغ کرنانہیں تھا،بلکہ ڈرانادھمکانامقصدتھا۔
واضح رہے کہ صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لئے نیت ضروری نہیں، طلاق دينا اور فارغ كرنا مقصود نہہوتب بھی صریح الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اوريہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہوش وحواس کی موجودگی میں اس سلسلے میں درست مسئلہ سے لاعلمی شریعت کے نزدیک قابل قبول عذر نہیں، بلکہ غلط مسئلہ معلوم ہونے کی صورت میں بھی جتنی طلاقیں دی جائیں گی بلاشبہ وہ واقع ہوجائیں گی، كيونكہ جوآدمی نکاح کرتاہے ،وہ طلاق کے عمل کوبھی جانتاہے اور اگر نہ جانتاہوتو اس کے متعلق صحیح اورمستند راہ نمائی حاصل کرنااس كےلئےضروری ہے۔ نیزاگردوسری اور تیسری مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے سے پہلی طلاق میں مضبوطی پیداکرنا مقصد نہ ہوبلکہ ڈرانے دھمکانے کی نیت ہو تو اس سے بھی دوسری اور تیسری طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔لہٰذاصورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہےاورنکاح ختم ہوگیاہے ۔اب آپ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہناجائزنہیں اورنہ ہی دونوں آپس میں رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت گزرنے کے بعد عورت اپنے اہلِ خانہ کے مشورے سے دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔