بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

غلط مسئلہ معلوم ہونے کی وجہ سےتین طلاقیں دینا

سوال

میں نےایک مسئلہ میں آپ سےراہ نمائی لینی تھی ۔میں زمانہ طالب علمی میں جب لاء پڑھ رہاتھاتومیرےاستادنےمجھے بتایاکہ ایک نشست میں تین بارطلاق ہونےکےباوجوداسےایک بارسمجھاجاتاہے۔ میں اس بات کویقین کےساتھ کہہ سکتاہوں کہ میں نےجب اپنی بیوی کوتین الگ الگ الفاظ میں طلاق دی، تو میرےذہن میں یہی تھاکہ ایک ہی طلاق واقع ہوگی ۔میں حلفاًیہ بات کہتاہوں کہ میرامقصدہرگزاپنی بیوی کومکمل طورپرفارغ کرنانہیں تھا،بلکہ ڈرانادھمکانامقصدتھا۔

جواب

واضح رہے کہ صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لئے نیت ضروری نہیں، طلاق دينا اور فارغ كرنا مقصود نہہوتب بھی صریح الفاظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اوريہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ہوش وحواس کی موجودگی میں اس سلسلے میں درست مسئلہ سے لاعلمی شریعت کے نزدیک قابل قبول عذر نہیں، بلکہ غلط مسئلہ معلوم ہونے کی صورت میں بھی جتنی طلاقیں دی جائیں گی بلاشبہ وہ واقع ہوجائیں گی، كيونكہ جوآدمی نکاح کرتاہے ،وہ طلاق کے عمل کوبھی جانتاہے اور اگر نہ جانتاہوتو اس کے متعلق صحیح اورمستند راہ نمائی حاصل کرنااس كےلئےضروری ہے۔ نیزاگردوسری اور تیسری مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے سے پہلی طلاق میں مضبوطی پیداکرنا مقصد نہ ہوبلکہ ڈرانے دھمکانے کی نیت ہو تو اس سے بھی دوسری اور تیسری طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔لہٰذاصورتِ مسئولہ میں آپ کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہےاورنکاح ختم ہوگیاہے ۔اب آپ کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہناجائزنہیں اورنہ ہی دونوں آپس میں رجوع کرسکتے ہیں۔ عدت گزرنے کے بعد عورت اپنے اہلِ خانہ کے مشورے سے دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ:[البقرة:230]
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
أحكام القرآن للجصاص،أحمدبن علي الرازي(م: 370هـ)(2/83)دارإحياءالتراث العربي
قوله تعالى:فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ،فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
الصحيح لأبي عبدالله محمدبن إسماعيل البخاري(م: 256هـ)(7/43)دارطوق النجاة
5264-وقال الليث:حدثني نافع،قال:كان ابن عمر،إذاسئل عمن طلق ثلاثا، قال:’’لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا،فإن طلقتهاثلاثاحرمت حتى تنكح زوجا غيرك‘‘۔
عمدة القاري،العلامة بدر الدين العينى(م: 855هـ)(20/234)دارإحياءالتراث
 قوله تعالى:{الطلاق مرتان}معناه: مرة بعد مرة۔
السنن لابي داود سليمان بن الأشعث(م: 275هـ)(3/516)دارالرسالة العالمية
2194-عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:” ثلاث جدهن جد،وهزلهن جد:النكاح،والطلاق،والرجعة”۔
الدرالمختار،العلامة علاءالدين الحصكفي(م 1088هـ)(3/235)سعيد
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل)ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران(ولو عبدا أو مكرها)فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/250)سعيد
وأما الهازل فيقع طلاقه قضاء وديانة لأنه قصد السبب عالما بأنه سبب فرتب الشرع حكمه عليه أراده أو لم يرده۔
وفیه ايضاً(3/239)سعيد
في التحرير وشرحه: الهزل لغة اللعب. واصطلاحا: أن لا يراد باللفظ ودلالته المعنى الحقيقي ولا المجازي بل أريد به غيرهما، وهو ما لا تصح إرادته منه. وضده الجد، وهو أن يراد باللفظ أحدهما۔
البحر الرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(2/282)دارالكتاب الاسلامي
فإن الجهل بالأحكام في دار الإسلام ليس بمعتبر۔
فتح القدير،العلامة  ابن الهمام(م: 861هـ)(3/469)دارالفكر
 وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاثا۔
  رد المحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(1/ 42)سعيد
 قال العلامي في فصوله: من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده. وفرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات. وكذا أهل الحرف، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه اهـ۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس