کیا غلاف کعبہ سنت ہے ؟اس کی ابتداء کب ہوئی اور کس نے ایجاد کی ، کیا خیر القرون میں رائج ہو ا یا اس کےبعد، اگر خیر القرون میں اس کا آغاز نہیں ہوا بعد میں ہوا تو کیا یہ بدعت نہیں؟شریعت مطہر ہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
غلاف کعبہ کی ابتداء کرنے والے کے متعلق روایات مختلف ہیں ،شارحین نےاس قول کو ترجیح دی ہے، کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس کی ابتداء فرمائی ۔اور اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا ،یہا ں تک کہ خود حضور ﷺ نے بھی یمن کے کپڑے سے بنا ہوا ایک غلاف کعبہ پر چڑھایا ؛ لہذا یہ بدعت نہیں ہے۔اسی طرح سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سیدنا حضرت عثان رضی اللہ عنہ سے بھی کعبہ پر غلاف چڑھانا ثابت ہے۔
الجامع للترمذی(2/ 74)ابواب صفة القيامة
وسترتم بیوتکم کما تستر الکعبه۔
فتح الباری (3/ 568) بیروت
فحصلنا فی اول من کساھا مطلقا علی ثلاثة اقوال:اسماعیل وعدنان وتبع وھو اسعد المذکور فی الروایة الاول… ویجمع بین الاقوال الثلاثه ان کانت ثابتة بان اسماعیل اول من کساھا مطلقا واما تبع فاول من کساھا ما ذکر ،واما عدنان فلعله اول من کساھا بعد اسماعیل…۔
وفیہ ایضا (3/567 )
وروی الواقدی ایضا عن ابراھییم عن ابی ربیعة قال کسی البیت فی الجاھلیة الانطاع ،ثم کساہ رسول اللہ ﷺ الثیاب الیمانیة ثم کساہ عمروعثمان القباطی ثم کساہ الحجاج الدیباج۔۔۔ وقال عبد الرزاق عن ابی جریج اخبرت ان عمر کان یکسوھا القباطی واخبرنی غیر واحد ان النبی ﷺ کساھا القباطی والحبرات و ابو بکر و عمر وعثمان رضی اللہ عنھم۔
عمدۃ القاری (9/ 339) رشیدیة
الخامس :انه لعل الكعبة كانت مكسوة وقت جلوس عمر فحیث لم ینکرہ وقررھا دل علی جوازھا۔
وفیہ ایضا (9/ 340) رشیدیة
ذکر ما یستفاد منه: فیه التنبیه علی شروعیتة الکسوۃ۔