سائل ایک پرائیویٹ مل میں ملازمت کرتا تھا بیماری کے باعث مل سے نکال دیا گیا ۔ سائل کی کسی بھی قسم کی جائیداد ، سواری، پالتو جانور ، سونا چاندی ، وغیرہ نہیں ہے۔ سائل کی صرف یہی ملازمت ہی روز گار کا ذریعہ تھا ۔
سائل کے ۵ چھوٹے بچے ہیں بڑا بیٹا تقریبا ۱۴ سال کا ہے جو ذہنی طور پر کمزور ہے،ا سپیشل بچہ ہے، چار چھوٹے ہیں۔ سائل مقروض بھی ہے۔سو امرلے کا گھر اپنا ہے مگر نا کافی ہے، سائل اپنے کنبے کا واحد کفیل ہے۔ سائل جسمانی، روحانی طور پر الحمد للہ صحت مند ہے صرف پاؤں کی تکلیف کے باعث زیادہ چلنے پھرنے سے سخت معذور ہے۔ مندرجہ بالا حالات و واقعات کی روشنی میں مندرجہ ذیل چار سوالات کے جوابات قرآن ، حدیث ، سنت اور آثار صحابہ کی روشنی میں درکار ہیں
نمبر ۱ ۔ کیا سائل قیمتاًاپنا ایک گردہ عطیہ کر سکتا ہے ؟
نمبر۲۔ اگر نفلی حج عمرہ کرنے سے کسی ضرورت مند مقروض کی مدد کر نا زیادہ بہتر ہے تو سائل کسی نفلی حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والے سے نفلی حج یا عمرہ کے بدلے مدد لے سکتا ہے یا نہیں؟
نمبر۳۔بینک و غیر و سے سودی قرض لینا سائل کے لیے درست ہے ؟
نمبر۴۔مفلسی کفر تک پہنچا سکتی ہے ” حدیث شریف کا مفہوم درست ہے تو زبانی سوال تحریر نہیں کیا جا سکتا۔
نمبرا۔ سائل کے لیے اپنا گردہ فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
نمبر۲۔اگر کوئی شخص آپ کے حالات سے مطلع ہو کر نفلی حج یا عمرہ پر جانے کے بجائے آپ کی مدد کرتا ہے اور نفلی حج یا عمرہ کو مؤخر کر دیتا ہے تو ایسا کرنا درست ہے ، کوئی حرج نہیں۔
نمبر۳۔سودی قرض لینا ہر گز جائز نہیں حرام اور ناجائز ہے۔
نمبر۴۔آپ نے سوال میں مذکور حدیث سے متعلق جو سوال کیا وہ واضح نہیں ہے؛اس لیے اس کا جواب نہیں دیا گیا،سوال کا مقصد اور مفہوم واضح لکھ کر آپ دوبارہ جواب حاصل کر سکتے ہیں۔