فقہ حفی کی رو سے غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں اور یہی راجح ہے۔ نجاشی اور حضرت معاویہ بن معاویۃ مزنی رضی اللہ عنہ کی غائبانہ نماز جنازہ کا جو احادیث مبارکہ میں ذکر آیا ہے وہ صرف ان کی خصوصیت تھی کیونکہ اگر اس کی عام اجازت ہوتی تو آپﷺ ان بیسیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا نہ چھوڑتے جن کی وفات آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں مدینہ طیبہ سے باہر ہوئی، اسی طرح آپ ﷺ کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی غائبانہ نماز جنازہ کا ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا اس عمل سےاجتناب لازم ہے۔
:مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح»(3/ 1195) دارالفکر بیروت
ذهب الشافعي إلى جواز الصلاة على الغائب، وعند أبي حنيفة لا يجوز ; لأنه يحتمل أن يكون حاضرا ; لأنه تعالى قادر على أن يحضره وخصوصيته به عليه الصلاة والسلام. (متفق عليه)۔
:فتح الملہم (4/481) دار العلوم کراچی
وعن الحنفیۃ والمالکیۃ لایشرع ذالک ونسبہ ابن عبد البر لا کثر العلماء۔۔۔ ان ذاک خاص با لنجاشی لانہ لم یثبت انہ علیہ الصلاۃ والسلام صلی علی میت غائب غیرہ۔۔۔ ولو جازت الصلوۃ علی غائب لصلی علیہ الصلاۃ والسلام علی من مات من اصحابہ لصلی المسلمون شرقا و غربا علی الخلفاء الا ربعۃ وغیرہم ولم ینقل ذالک۔
:الفتاوى الهندية (1/ 164) دارالفکر
ومن الشروط حضور الميت ووضعه وكونه أمام المصلي فلا تصح على غائب۔