بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عیسائی شخص کی شکار کی ہوئی مچھلی کا حکم

سوال

کیا مسلمان کے لیے عیسائی کی شکار کی ہوئی مچھلی کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

چونکہ مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں  ہوتی اس لیے کافر کے ہاتھ کی مچھلی حلال ہے۔
قال اللہ تعالی
{أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ} [المائدة: 96]
ردالمحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(5/216)ایچ۔ایم۔سعید
الأصل في إباحة السمك أن ما مات بآفة يؤكل، وما مات بغير آفة لا يؤكل ط، نعم صرح بالمسألة في الأشباه فكان المناسب العزو إليها۔
الهداية،برھان الدین المرغینانی(م:593ھ)(4/ 78)البشری
“ولا بأس بأكل الجريث والمارماهي وأنواع السمك والجراد بلا ذكاة” وقال مالك: لا يحل الجراد إلا أن يقطع الآخذ رأسه أو يشويه لأنه صيد البر، ولهذا يجب على المحرم بقتله جزاء يليق به فلا يحل إلا بالقتل كما في سائره. والحجة عليه ما روينا. وسئل علي رضي الله عنه عن الجراد يأخذه الرجل من الأرض وفيها الميت وغيره، فقال: كله كله. وهذا عد من فصاحته، ودل على إباحته وإن مات حتف أنفه، بخلاف السمك إذا مات من غير آفة لأنا خصصناه بالنص الوارد في الطافي، ثم الأصل في السمك عندنا أنه إذا مات بآفة يحل كالمأخوذ، وإذا مات حتف أنفه من غير آفة لا يحل كالطافي۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس