بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورت کا مرد سے یہ کہنااگر فلاں کام کیا تومجھ پہ حرام ہے، کاحکم

سوال

عورت اگر مرد کو کہے کہ اگر فلاں کام کیا تومجھ پہ حرام ہے پھر مرد وہ کام بھی کرلے۔اب اس کےلیے کیا حکم ہے؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ عورت کے اپنے شوہر کیلئے یہ الفاظ” اگر فلاں کام کیا تومجھ پر حرام ہے”تعلیق یمین کےہیں۔لہٰذا جب مرد نے وہ کام کرلیا تو قسم منعقد ہوگئی۔ اب اگر میاں بیوی ہمبستری کرلیتے ہیں تو قسم ٹوٹ جائے گی اور عورت پر قسم کا کفارہ لازم ہوگاجس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت صاحب حیثیت ہوتو دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یادس مساکین کو جسم ڈھانپنے کےلیے کپڑے دے۔لیکن اگر عورت ان مذکورہ چیزوں کی طاقت نہیں رکھتی تو پھر تین روز مسلسل روزے رکھے۔
حسامی :ص:90 رشیدیة
وعندنا التعلیق یمنع السبب عن الانعقاد فلا یکون السبب موجوداً موجبا للحکم فی الحال۔
الدر المختار (3/ 730)سعيد
ومنه قولها لزوجها أنت علي حرام أو حرمتك على نفسي، فلو طاوعته في الجماع أو أكرهها كفرت مجتبى
رد المحتار على الدر المختار (3/ 729)
 أن المعلق بالشرط كالمنجز عند وقوع الشرط
الفتاوى الهندية (2/ 55)
تحريم الحلال يمين. كذا في الخلاصة. فمن حرم على نفسه شيئا مما يملكه لم يصر محرما ثم إذا فعل مما حرمه قليلا، أو كثيرا حنث ووجبت الكفارة كذا في الهداية
الفتاوی البزازیہ(3/137)رشیدیة
ھذا الثوب علیہ حرام یحنث بلبسه۔۔۔۔ قالت لزوجہا انا علیک حرام اوحرمتک صار یمینا حتی لو جامعہا طائعة اومکرھة تحنث
الفتاوی التاتارخانیۃ(6/300 ) فاروقیة
کفارۃ الیمین ماذکر اللہ تعالیٰ فی قوله لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ  بعد ھذا ینظر ان کان الحالف موسراً فکفارته احدا الاشیاء الثلاثة ولا یجزیہ الصوم وان کان معسراً فکفارته الصوم

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس