بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عوامی ٹینکی کےنیچےمسجدبنانےکےبعدموبائل کمپنیوں کےٹاورلگانا

سوال

سوال نمبر ۱۔          ایک رہائشی کالونی میں پانی کی ٹینکی بنائی گئی۔ٹینکی بننےکےکچھ عرصہ بعداس علاقےمیں مسجدکی ضرورت محسوس ہوئی تواس ٹینکی کےنیچے مسجدبنادی گئی ۔اس ٹینکی سےسارےمحلہ والوں کوپانی سپلائی کیا جاتاہے۔اب پوچھنا یہ ہےکہ کیایہ مسجدشرعی ہےیانہیں؟ واضح رہےکہ سوسائٹی کےذمہ داران کی طرف سےاس جگہ کووقف کرنے کےحوالہ سےکوئی واضح بات ابھی تک سامنےنہیں آسکی۔ سوال نمبر ۲۔          مسجدکےاوپروالی ٹینکی پرمختلف موبائل کمپنیوں کےبوسٹربھی لگےہوئے ہےکیااس طرح بوسٹر لگانا شرعاجائزہے؟ تنقیح:   موبائل کمپنیوں کےٹاورمسجدکی تعمیرسےپہلےلگائےگئے ہیں یابعدمیں؟اوران کاکرایہ کون لیتا ہے ؟ جواب تنقیح:                یہ ٹاور/بوسٹرکمپنیوں کےمسجدکی تعمیرکےبعدلگائےگئے ہیں اوران کاکرایہ سوسائٹی کےذمہ داران لیتےہیں۔

جواب

سوالات کےجوابات سےپہلےبطورِتمہیدیہ بات سمجھ لیں کہ جس جگہ ایک مرتبہ مسجدتعمیر ہوجائے،وہ جگہ ہمیشہ کےلئےمسجدبن جاتی ہے،یہی وجہ کہ مسجدکےاوپراورنیچےکےحصے میں گندگی پھینکنا،پیشاب وغیرہ امورممنوع اورناجائزہیں لیکن اگرکسی جگہ مسجدبنانےسےپہلےنیچےیااوپرکےحصےکومصالح مسجد،مثلاً:امام صاحب کی رہائش یامسجد کی دکانوں کےلئےوقف کیاجائے،یا رفاہ عامہ جیسے،ہسپتال وغیرہ کےلئےمتعین کردیا جائے تواس کی گنجائش ہے۔  نمبر ۱۔اگر کالونی کےبااختیارافرادنےمذکورہ رہائشی کالونی میں ٹینکی کے نیچے تعمیر شدہ مسجدکومسجدکی حیثیت سےتسلیم کرلیاہےتویہ شرعی مسجدہے،چاہےسوسائٹی کےذمہ داران کی طرف سےاس جگہ کوباقاعدہ وقف کرنےکی صراحت نہ ہو۔ نمبر ۲۔ تعمیرمسجدکےبعداُس میں بلاضرورت ِ مسجد تصرف کرنا درست نہیں، مذکورہ بالا مسجد کی ٹینکی پر موبائل کمپنیوں کے ٹاور تعمیر مسجد کے بعد لگائے گئے ہیں ؛ اس لئے  یہ صحیح نہیں ہے ۔ ان کو اتار نا ضروری ہے ۔یا کم ازکم اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ اس پر لگنے والے اشتہارات خلافِ شرع نہ ہوں تو اس کی آمدن  کو مسجد کے استعمال میں لانا او ر اس کو مسجد کی آمدن کا ذریعہ بناناچاہئے۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي (م:1088هـ) (6/546) رشیدیة قدیم
(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و(بقوله جعلته مسجدا)عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه) بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (6/546) رشیدیة کوئتة
(قوله بالفعل) أي بالصلاة فيه ففي شرح الملتقى إنه يصير مسجدا بلا خلاف، ثم قال عند قول الملتقى، وعند أبي يوسف يزول بمجرد القول ولم يرد أنه لا يزول بدونه لما عرفت أنه يزول بالفعل أيضا بلا خلاف اهـ. قلت: وفي الذخيرة وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف، حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي (م:1088هـ) (6/548) رشیدیة قدیم
(وإذا جعل تحته سردابًا  لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس۔
التقریرات الرافعى،عبد الْقَادِر بن عبد اللَّطِيف الشهير بالرافعي (م:1230هـ) (6/548) رشیدیة
قوله: (لمصالحه) لیس بقید بل الحکم کذلک إذا کان ینتفع به عامة المسلمین علی ما أفاده فی غایة البیان حیث قال: أو رد  الفقیه أبو اللیث سوالًا وجوابًا فقال: فإن قیل:ألیس مسجد بیت المقدس تحته مجتمع الماء، والناس ینتفعون به قیل: إذا کان تحته شیء ینتفع به عام المسلمین یجوز، لأن إذا  انتفع به عامتهم صار ذلک لله تعالی أیضا. ومنه یعلم حکم کثیر من مساجد مصر التی تحتها صهاریج ونحوها۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي (م:1088هـ) (6/549) رشیدیة قدیم
[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (6/550) رشیدیة کوئتة
(قوله: ولو على جدار المسجد)…قلت: وبه حكم ما يصنعه بعض جيران  المسجد من وضع جذوع على جداره فإنه لا يحل ولو دفع الأجرة (قوله: ولا أن يجعل إلخ) هذا ابتداء عبارة البزازية، والمراد بالمستغل أن يؤجر منه شيء لأجل عمارته وبالسكنى محلها وعبارة البزازية على ما في البحر، ولا مسكنا وقد رد في الفتح ما بحثه في الخلاصة من أنه لو احتاج المسجد إلى نفقة تؤجر قطعة منه بقدر ما ينفق عليه، بأنه غير صحيح. قلت: وبهذا علم أيضا حرمة إحداث الخلوات في المساجد كالتي في رواق المسجد الأموي، ولا سيما ما يترتب على ذلك من تقذير المسجد بسبب الطبخ والغسل ونحوه۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس