بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عما رت کی تقسیم

سوال

ہمارے والد صاحب نے اپنی شدید بیماری کی وجہ سے وراثت میں ملنے والی عمارت قانونی مشکلات سے بچنے کے لئےہماری والدہ کے نام کروادی تھی ، ان کو ہبہ (گفٹ) نہیں کی تھی، اور یہ کہہ دیاتھا کہ میرے انتقال کےبعد میری اولاد میں تقسیم کردیں ، والد صاحب کےانتقال کے وقت ایک ہی عمارت میں نیچے دو دکانیں اور اوپر دوپورشن رہائشی تھے، والد صاحب کے ورثاء میں دوبیٹے ، دوبیٹیاں اور ایک بیوہ ہے، ابھی تک جائیداد تقسیم نہیں ہوئی ، دوبیٹے اپنی والدہ کے ساتھ اسی مکان میں رہ رہے ہیں جبکہ دکانیں کرایہ پر دی ہوئی ہیں جن کا کرایہ والدہ اپنے علاج معالجہ میں استعمال کرتی ہیں،بیٹیوں کامطالبہ یہ ہے کہ والد صاحب کے زمانہ کی عمارت میں سے دکانیں ہمیں دے دی جائیں یا انہیں بیچ کرہمارا حصہ دیا جائے ، ہم والدہ کے خرچ کے لئے ان دکانوں کےکرایہ کے برابر رقم دیتی رہیں گی ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے والد صاحب نے محض قانونی مشکلات کی وجہ سے مذکورہ عمارت والدہ کے نام کروائی تھی ان کو ہبہ کرنا مقصود نہیں تھا تو ایسی صورت میں مذکورہ عمارت والد صاحب کا ترکہ ہے لہٰذا اسے شرعی حکم کے مطابق ورثاء میں تقسیم کرنا ضروری ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ بیوہ کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ دینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ میں سے ہربیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دوگنا حصہ دیدیاجائے، بہترتویہ ہے کہ اس عمارت کو فروخت کئے بغیر ہرایک کو اس کاحصہ الگ کرکے دیدیں لیکن اگر بیچنے کی ضرورت پڑے تواس کی بھی گنجائش ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ عمار ت میں جب مرحوم کی بیٹیاں حصہ دار ہیں تو ان کے حصہ میں جو دکان وغیرہ آئے اس کے عوض ان پر کرایہ کی ادائیگی لازم نہیں، تاہم اگر وہ اپنی والدہ کے علاج معالجہ کے لئے اپنی طرف سے تعاون کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں۔
الدر المختار،العلامة علاء الدين محمد بن علي(م: 1088ھ)(6: 260)سعید
(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدہم إن انتفع كل) بحصتہ (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصتہ) وفي الخانية يقسم بطلب كل وعليہ الفتوى۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام محمد بن فرامرز(م: 885ھ)(2/ 422)دارإحياء الكتب العربية
(وقسم بطلب أحدہم إن انتفع كل بحصتہ وبطلب ذي الكثير فقط إن لم ينتفع الآخر لقلة حصتہ) يعني إذا انتفع كل من الشركاء بنصيبہ قسم بطلب أحدہم لأن في القسمة تكميل المنفعة وكانت حتما لازما فيما يحتملہا إذا طلب أحدہم، وإن انتفع أحدہم بنصيبہ إذا قسم وتضرر الآخر لقلة نصيبہ فإن طلب صاحب الكثير قسم، وإن طلب صاحب القليل لم يقسم كذا ذكر الخصاف وذكر الجصاص عكسہ وذكر الحاكم في مختصرہ أن أيہما طلب القسمة قسم القاضي قال في الخانية: وہو اختيار الشيخ الإمام المعروف بخواہر زادہ وعليہ الفتوى۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس