واضح رہے کہ مجلس نکاح میں عاقدین یعنی میاں بیوی یا ان میں سے کسی کے نہ ہونے کی صورت میں ان کے وکیل کے علاوہ ایسے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کا ہونا ضروری ہے جو عاقل بالغ ہوں، لہٰذا صورت مسؤلہ میں شرعی گواہوں کے نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا نیز بیوی کی گواہی اپنے شوہر کے حق میں معتبر نہیں ہے ۔
فتاوٰی قاضی خان(1/295) رشيدية
شھادۃ الانسان فیما باشرہ مردودۃ بالاجماع۔
موسوعۃ القواعد الفقہیۃ(6/141)مؤسس الرسالة
شھادۃ الانسان علیٰ فعل نفسہ باطلۃ ۔
ردالمحتار(4/100) ایچ ایم سعید
قال في الهداية: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين۔
البحرالرائق(3/155)رشيدية
لو تزوج بغير شهود ثم أخبر الشهود على وجه الخبر لا يجوز إلا أن يجدد عقدا بحضرتهم۔
فتاوٰی ہندیہ(3/295)دار الكتب العلمية
الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح۔
فتاوى هندیہ(3/437) دار الكتب العلمية
ولا شهادة الزوج لامرأته، وإن كانت مملوكة أيضا ولا شهادة المرأة لزوجها، وإن كان مملوكا أيضا۔
فتاوٰی دارالعلوم کراچی(3/182)ادارۃ المعارف کراچی ،فتاوٰی عثمانیہ (5/21) العصر اکیڈمی