عشاء کی نماز کے بعد لا یعنی فضول باتیں کرنا کیانی سننا،سنانا مکروہ ہے کیونکہ بعض دفعہ ان کی وجہ سے صبح کی نماز بھی فوت ہو جاتی ہے اور حدیث شریف میں بھی اسکی ممانعت آئی ہے البتہ اگر کوئی بات(دینی یا دنیوی )ضرورت لی وجہ سے کی جائے اس کی اجازت ہے اور اسی طرھ مہمان کی ضیافت کے طور پر اس سے باتیں کر سکتے ہیں اور ذکر اذکار قرآن مجید کی تلاوت یا دینی مسائل بیان کر سکتے ہیں لیکن اتنی تاخیر نہ کی جائے کہ جس سے صبح کی نماز فوت ہومے کا اندیشہ ہو۔
جامع الترمذی (1/42) مکتبه عشرہ مبشرہ
عن أبي برزة، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره النوم قبل العشاء، والحديث بعدها۔
رد المحتار (1/368) ایم سعید
وإنما كره الحديث بعده؛ لأنه ربما يؤدي إلى اللغو أو إلى تفويت الصبح أو قيام الليل لمن له عادة به، وإذا كان لحاجة مهمة فلا بأس، وكذا قراءة القرآن والذكر وحكايات الصالحين والفقه والحديث مع الضيف. اهـ. والمعنى فيه أن يكون اختتام الصحيفة بالعبادة۔۔۔۔۔ويؤخذ من كلام الزيلعي أنه لو كان لحاجة لا يكره وإن خشي فوت الصبح؛ لأنه ليس في النوم تفريط وإنما التفريط على من أخرج الصلاة عن وقتها كما في حديث مسلم، نعم لو غلب على ظنه تفويت الصبح لا يحل؛ لأنه يكون تفريطا تأمل۔