بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عدتِ وفات گزارنے کے بعد شوہر کے کسی رشتہ دار سے نکاح کرنا

سوال

اگر کسی شخص نے شادی کی اور پھر اس کا انتقال ہو گیا تو کیا اب وہ عورت جو اس کے عقد میں تھی وہ عدت گزار کر میت کے بھائی یا میت کے کسی اور رشتہ دار کے عقد میں آسکتی ہے کہ نہیں؟ یعنی اپنے شوہر کے گھر میں سے ہی وہ دوسرے کسی شخص سے نکاح کر سکتی ہے کہ نہیں ؟ اگر وہ عقد میں آسکتی ہے تو اس کی صورت کیا ہے ؟اگر نہیں آسکتی تو اس کی وجہ کیا ہے؟اس مسئلے کو تفصیلا ًبیان فرمائیں۔

جواب

مذکورہ صورت میں عدتِ وفات گزارنے کے بعد اس عورت کا اپنے سسر اور اگر شوہر نے دوسری شادی کی ہو تو اس کے بیٹوں کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد سے نکاح درست ہے بشرطیکہ، ان کے درمیان کوئی اور وجہ محرمیت مثلاً رضاعت نہ پائی جائے۔
رد المحتار (2/ 199)
والنكاح بعد الموت باق إلى أن تنقضي العدة
النتف في الفتاوى للسغدي (1/ 253)
الحرمة المؤبدة بالسبب: وأما السبب فهو على عشرة اوجه وهي
1 – الرضاع 2 والصهرية۔۔۔ ما يحرم بالصهرية:وأما الصهر فهم أربعة اصناف أحدهم ابو الزوج والجدود من قبل ابويه وان علوا يحرمون على المرأة وتحرم هي عليهم دخل بها أو لم يدخل بها لقوله تعالى {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}۔۔۔۔ والثالث ابناء الزوج وبنو اولاده وان سفلوا يحرمون على امرأته وتحرم هي عليهم دخل بها او لم يدخل لقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء}
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس