محمد ایوب کی بیوی نے نان ،نفقہ اور سکنی کی عدم ادائیگی اورمحمدایوب کی طرف سے سخت بدسلوکی کی وجہ سے اس کے ساتھ نباہ ناممکن ہو نے کی وجہ سے عدالت میں خلع کا دعوی کیا ،شوہر نے عدالت میں حاضر ہوکردعوی کا یہ جواب دیا کہ میں اس کو مسلسل خرچہ اور سکنی ٰمہیا کرتا رہا ہوں اور آئندہ بھی کروں گا ۔جج نے شوہر سے یہ پوچھا کہ کیا تم حلفیہ یہ کہہ سکتے ہو کہ تم خرچہ ادا کرتے رہے ہو تو اس پر شوہر نے نہ تو قسم اٹھائی اور نہ ہی واضح الفاظ میں قسم اٹھانے سے انکار کیا ،بلکہ بات کو گول مول کرکے چھوڑدیا ۔اور پیشی کی تاریخ کا علم ہوتے ہوئے بھی جان بوجھ کرآئندہ کی دو پیشیوں میں حاضر نہیں ہو ا ،تو عدالت نے شوہر کے حاضر نہ ہونے کی وجہ سے بیوی کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کردی ۔تو کیا عدالت کے اس فیصلے سے شرعاً ان کا نکاح ختم ہو چکا ہے یا نہیں ؟اور اگر نکاح ختم نہیں ہو ا تو کیا پنچایت میں یہ معاملہ لے کے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر لے کے جاسکتے ہیں تو پنچایت کو کن شرائط کے ساتھ اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے تو اس صورت میں عدالت نے بیوی کے حق میں جو ڈگری جاری کی ہے یہ شرعاً تعنت کی بنیاد پر صحیح ہے ،اس فیصلہ میں گو عدالت نے تعنت کو صراحۃ ً فسخ نکاح کی بنیا د نہیں بنایا ،بلکہ فیصلہ خلع کی بنیاد پر کیاگیاہے جو شرعاً درست نہیں، لیکن چونکہ اس فیصلہ میں فسخ نکاح کی بنیا د فی الجملہ موجودہے یعنی شوہر کا متعنت ہو نا او رپھر اس کی طرف سےنکول بھی پایا گیا ہے لہٰذا نکول کی بنیاد پر یہ نکاح فسخ سمجھا جائیگا اور مذکورہ خاتون ایوب کے نکاح سے خارج سمجھی جائے گی اور عدت پوری ہونے کے بعد اگروہ چاہےتواپنےاولیاء کی سرپرستی میں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔واضح رہے کہ عدت کی ابتداعدالت کے فیصلےکے دن سے ہوگی۔
بدائع الصنائع،العلامة علاء الدين الكاساني(م:587ھ)(6/226)دارالكتب العلمية
ومنها عدم البينة الحاضرة عند أبي حنيفة، وعندهما ليس بشرط حتى لو قال المدعي لي بينة حاضرة ثم أراد أن يحلف المدعى عليه ليس له ذلك عنده وعندهما له ذلك۔
المغني لابن قدامة، عبد الله بن أحمد(م:620ھ)(10/97)مكتبة القاهرة
فإن امتنع من الحضور، أو توارى، فظاهر كلام أحمد، جواز القضاء عليه؛ لما ذكرنا عنه في رواية حرب.وروى عنه أبو طالب، في رجل وجد غلامه عند رجل، فأقام البينة أنه غلامه، فقال الذي عنده الغلام: أودعني هذا رجل. فقال أحمد: أهل المدينة يقضون على الغائب، يقولون: إنه لهذا الذي أقام البينة.وهو مذهب حسن، وأهل البصرة يقضون على غائب، يسمونه الإعذار. وهو إذا ادعى على رجل ألفا، وأقام البينة، فاختفى المدعى عليه، يرسل إلى بابه، فينادي الرسول ثلاثا، فإن جاء، وإلا قد أعذروا إليه.فهذا يقوي قول أهل المدينة، وهو معنى حسن. وقد ذكر الشريف أبو جعفر، وأبو الخطاب، أنه يقضي على الغائب الممتنع. وهو قول الشافعي؛ لأنه تعذر حضوره وسؤاله، فجاز القضاء عليه، كالغائب البعيد، بل هذا أولى؛ لأن البعيد معذور، وهذا لا عذر له۔
الهداية،برهان الدين علي بن أبي بكر(م:593ھ)(3/156)داراحياء التراث العربي
ثم النكول قد يكون حقيقيا كقوله لا أحلف، وقد يكون حكميا بأن يسكت، وحكمه حكم الأول إذا علم أنه لا آفة به من طرش أو خرس هو الصحيح۔