ایک شخص نے دوسرے پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنی خاتون پر جادو کیا ہے۔الزام لگانے والے سے جب اس دعوے کا ثبوت طلب کیا گیاتو اس نے کہا میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے،البتہ ایک عامل نے جنات کے ذریعے معلوم کیا ہے کہ اس شخص نے جادو کیا ہے ،اور جنات کی اطلاع ہی میرے پاس گواہ ہے ۔جبکہ جس پر جادو کا الزام لگایا جارہا ہے، وہ قسم کھانے کو تیار ہے کہ اس نے جادو نہیں کیا ۔ اب سوال یہ ہے کہ : کیا عامل یا جنات کی بات شرعاً گواہی یا دلیل کے طور پر قبول کی جا سکتی ہے ؟
واضح رہے کہ شرعاً جرم کو ثابت کرنے کے لیے شرعی شہادت یا مجرم کا اقرار ضروری ہے،اس کے بغیر کسی پر جرم ثابت نہیں کیا جا سکتا ، اور جنات کی گواہی بھی شرعاً معتبر نہیں ۔نیز عامل کی بات محض ایک اندازہ اور ظن ہے ، اس پر اعتقاد رکھنا اورحتمی طور پر اس کو حق جاننا ہر گز درست نہیں ہے۔ (فتاوی دارالعلوم دیوبند479-363/B=05/1441) لہذا صورتِ مسئولہ میں الزام لگانے والے کےلیے ہر گز جائز نہیں کہ محض عامل کی بات یا جنات کی گواہی کو بنیاد بنا کر کسی کو مجرم قرار دے ،تا وقتیکہ شرعی طریقہ سے جرم ثابت نہ ہو،اور الزام لگانے والے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اس فعل پر توبہ و استغفار کرے اورآئندہ کےلیےاس طرح کی بے بنیاد باتوں کی وجہ سے کسی کو مجرم ٹھہرانے سے اجتناب کرے۔(مستفاد از فتاویٰ محمودیہ،20/59ط:فاروقیہ)
مرقاۃ المفاتیح(7/250 )امدادیہ
“عن ابن عباس مرفوعاً: “لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر”. قال النووي: هذا الحديث قاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه أنه لايقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه”
رد المحتار (5/ 354)
طريق القاضي إلى الحكم يختلف بحسب اختلاف المحكوم به والطريق فيما يرجع إلى حقوق العباد المحضة عبارة عن الدعوى والحجة: وهي إما البينة أو الإقرار أو اليمين أو النكول عنه أو القسامة أو علم القاضي بما يريد أن يحكم به أو القرائن الواضحة التي تصير الأمر في حيز المقطوع به فقد قالوا لو ظهر إنسان من دار بيده سكين وهو متلوث بالدم سريع الحركة عليه أثر الخوف فدخلوا الدار على الفور فوجدوا فيها إنسانا مذبوحا بذلك الوقت ولم يوجد أحد غير ذلك الخارج، فإنه يؤخذ به وهو ظاهر إذ لا يمتري أحد في أنه قاتله، والقول بأنه ذبحه آخر ثم تسور الحائط أو أنه ذبح نفسه احتمال بعيد لا يلتفت إليه إذ لم ينشأ عن دليل، اهـ
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (8/ 5985)
طرق الإثبات التي يعتمد عليها في القضاء: هي الشهادة، واليمين، والنكول، والإقرار، أو الشهادة مع اليمين
أما الشهادة: فهي حجة المدعي: لقوله صلّى الله عليه وسلم: «البينة على المدعي» ولأن المدعي يدعي أمراً خفياً، فيحتاج إلى إظهاره، وللبينة قوة الإظهار …والبينة إما شهادة رجلين أو رجل وامرأتين أو شاهد ويمين، أو أربعة رجال، أو أربع نسوة
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 233)
طرق إثبات الدعوى- اتفق الفقهاء على أن الإقرار والشهادة واليمين والنكول والقسامة – على تفصيل في الكيفية أو الأثر – حجج شرعية يعتمد عليها القاضي في قضائه، ويعول عليها في حكمه
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند
: 479-363/B=05/1441
گواہ کو عربی میں شاہد کہتے ہیں اور شاہد وہ ہوتا ہے جو سامنے موجود ہو۔ جنات قوم وہ ہے جو سامنے موجود نہیں ہوتی ہے ہم سے پوشیدہ اور چھپی ہوئی ہوتی ہے، اس لئے ان کی شہادت معتبر نہیں۔