بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کے بعد بیوی کا سامان استعمال کرنے کا حکم

سوال

میری بیوی کا  سامان برتن وغیره جو ابھی میرے پاس رکھے ہوئے ہیں میں اس کو  واپس  کرنا چاہتا ہوں لیکن قانونی کاروائی میں کچھ دیر ہے کیا فی الحال میں ان  کو استعمال کر سکتا ہوں ؟

جواب

بیوی کی جانب سے اس کے سامان ( برتن وغیرہ) کو استعمال کرنے کی اجازت ہو تو اسے استعمال کرنا جائز ہےورنہ  نہیں۔
رد المحتار،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ)(4/ 61)ایچ۔ایم۔سعید
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔
                        الفتاوى الهندية، لجنۃ علماء برئاسۃ نظام الدین البلخی (5/ 119)رشیدیۃ
أما تفسيره شرعا فهو أخذ مال متقوم محترم بغير إذن المالك على وجه يزيل يد المالك إن كان في يده أو يقصر يده إن لم يكن في يده كذا في المحيط. . . . .وأما حكمه فالإثم والمغرم عند العلم وإن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وقال أبو يوسف – رحمه الله تعالى -: يوم الغصب وقال محمد – رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع كذا في الكافي۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

1

/

71

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس