بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کے الفاظ میں میاں بیوی کا بیان مختلف ہو تو دونوں کے لیے کا کیا حکم ہے؟

سوال

شوہر کابیان
: میں بقائم ہوش و حواس خمسہ ، بلا جبر  واکراہ غیر یہ وضاحتی بیان کرتا ہوں کہ میں نے اپنی اہلیہ کو دورانِ گفتگو یہ کلمات کہے ہیں ” اُسے میرے ساتھ بھیج دیں ورنہ میں نے اسے فارغ کر دینا ہے”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر قسمیہ طور پر اقرار کرتا ہوں کہ میں نے یہی الفاظ کہے ہیں ان کے سوا  دیگر الفاظ نہیں کہے ہیں ۔
بیوی کا بیان
: میری سمجھ کے مطابق میرے شوہر نے یہ الفاظ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے”یہ میری طرف سے فارغ ہے ” ۔

جواب

صورت مسئولہ میں بیوی کو اگر بالیقین معلوم ہے کہ شوہر نے اس کو ” میری طرف سے فارغ ہے” کے الفاظ کہے ہیں اور کہے بھی غصے کی حالت میں ہیں تو اس صورت میں بیوی کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شوہر سے علیحدہ رہے اور بغیر تجدید نکاح کے شوہر کے پاس نہ جائے اور اگر دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تو اس صورت میں بیوی کے پاس اپنے بیان پر اگر دو گواہ موجود ہیں تو کسی شرعی پنچایت میں یا عدالت میں پیش کر کے شوہر سے خلاصی حاصل کر کے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پنجایت یا عدالت حلف کے ساتھ شوہر کے قول کے مطابق فیصلہ کرے گی۔واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق طلاق واقع نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں احتیاطا تجدید نکاح کا حکم ہے۔
الدر المختار،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ)(5/ 465)ایچ۔ایم۔سعید
(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما۔
رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ه)(3/ 251)ايچ۔ايم۔سعيد
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه۔
الدر المختار،علاء الدين الحصكفي(م:1088ه) (3/ 356)ایچ۔ایم۔سعید
(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق۔

 

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس