: میں بقائم ہوش و حواس خمسہ ، بلا جبر واکراہ غیر یہ وضاحتی بیان کرتا ہوں کہ میں نے اپنی اہلیہ کو دورانِ گفتگو یہ کلمات کہے ہیں ” اُسے میرے ساتھ بھیج دیں ورنہ میں نے اسے فارغ کر دینا ہے”میں خدا کو حاضر ناظر جان کر قسمیہ طور پر اقرار کرتا ہوں کہ میں نے یہی الفاظ کہے ہیں ان کے سوا دیگر الفاظ نہیں کہے ہیں ۔
صورت مسئولہ میں بیوی کو اگر بالیقین معلوم ہے کہ شوہر نے اس کو ” میری طرف سے فارغ ہے” کے الفاظ کہے ہیں اور کہے بھی غصے کی حالت میں ہیں تو اس صورت میں بیوی کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ شوہر سے علیحدہ رہے اور بغیر تجدید نکاح کے شوہر کے پاس نہ جائے اور اگر دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتی تو اس صورت میں بیوی کے پاس اپنے بیان پر اگر دو گواہ موجود ہیں تو کسی شرعی پنچایت میں یا عدالت میں پیش کر کے شوہر سے خلاصی حاصل کر کے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں تو پنجایت یا عدالت حلف کے ساتھ شوہر کے قول کے مطابق فیصلہ کرے گی۔واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں شوہر کے بیان کے مطابق طلاق واقع نہیں ہوگی البتہ اس صورت میں احتیاطا تجدید نکاح کا حکم ہے۔