بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کے الفاظ میں میاں، بیوی کا بیان مختلف ہونا

سوال

شوہر کا بیان یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی  کو یہ کہا طلاق کی نیت سے” تو میری طرف سے فارغ ہے”   جبکہ بیوی یہ کہتی ہے کہ اس نے مجھے تین دفعہ طلاق،طلاق،طلاق کہا  ہے شوہر حلفیہ بیان دیتا  ہے کہ اس نے یہ الفاظ نہیں کہے  اب حکم شرعی کیا ہوگا؟

جواب

اصل جواب سے پہلے بطور تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ مفتی غیب نہیں جانتا بلکہ وہ جواب دینے میں سائل کے سوال کا پابند ہوتا ہے سوال کے درست یا غلط ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہے لہذا اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر واقعہ کی صحیح صورت حال کو بیان کرنا میاں بیوی کی ذمہ داری ہے۔ صورت مسئولہ میں شوہر کا بیان یہ ہے کہ میں نے صرف ایک مرتبہ ” تو میری طرف سے فارغ ہے، کے الفاظ کہے، اور شوہر اس پر حلفیہ بیان دینے کے لئے تیار ہے، جبکہ دوسری طرف بیوی کا بیان یہ ہے کہ شوہر نے مجھے تین دفعہ طلاق ، طلاق ، طلاق کہا ہے۔اس صورت حال میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر بیوی نے واقعتاً  اپنے کانوں سے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو اب اس کے لئے اپنے شوہر کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رہنا کسی طرح جائز نہیں، اس پر واجب ہے کہ شوہر سے علیحدہ  رہے اور انہیں وظائف زوجیت کا موقع نہ دےاور جب بیوی کے لئے شوہر کے ساتھ رہنا  کسی طرح جائز نہیں تو شوہر کو بھی چاہئے کہ بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار نہ کرے تاکہ بیوی کو گناہ میں مبتلا کرنے کا سبب نہ بنے۔ دیانت کا حکم یہی ہے اور اب اسی میں فریقین کے لئے عافیت اور بہتری ہے۔ اور اگر اس کے باوجود شوہر بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے پر اصرار کرے تو اس صورت میں شرعی عدالت یا شرعی پنچایت سے رجوع کیا جائے۔
البحرالرائق، ابن نجيم المصري (م: 970ه)(3/ 448،449)رشيدية
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث۔
 رد المحتار ،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (3/ 251)ايچ۔ايم۔سعيد
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه۔
     الدر المختار ،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (3/420،421)ايچ۔ايم۔سعيد
(سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها۔۔۔۔۔وفيها: لو لم يقدر هو أن يتخلص عنها ولو غاب سحرته وردته إليها لا يحل له قتلها، ويبعد عنها جهده (وقيل لا) تقتله، قائله الاسبيجابي (وبه يفتى)۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس