بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کے الفاظ میں شوہر اور بیوی کابیان مختلف ہو تو دونوں کے لیے شرعی حکم

سوال

شوہرکے بقول اس کی بیوی نے اس کی والدہ کے بارے میں انتہائی غلیظ الفاظ استعمال کئے۔اس کے جواب میں شوہرنے اپنی بیوی سے کہا”ایسی بےغیرت بیوی کو میں طلاق دوں گا،طلاق دوں گا،طلاق دوں گا۔(شوہر کا بیان ختم ہوا)۔ بیوی اور موقع پر موجود ایک عاقلہ،بالغہ مسلمان اور غیر جانبدار خاتون ان دونوں کا متفقہ بیان یہ ہے کہ اولا اپنی بیوی کو زد وکوب کیا پھر یہ الفاظ کہے “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق طلاق طلاق”۔ واضح رہے کہ مذکورہ بالامیاں بیوی کے درمیان سخت اَن بَن عرصہ دراز سے چلتی آرہی ہے یہ کئی دفعہ طلاق کی دھمکی دے چکے ہیں مذکورہ واقعہ سے چار دن پہلے بھی “میں صبح تجھے طلاق دوں گا”کے الفاظ کہے ہیں اور یہی الفاظ سالی کو بھی کہے ہیں کہ میں صبح فارغ کر دوں گا۔

جواب

اگر  شخص مذکور کی بیوی کو یقین ہے کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہے تو اس بیوی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر سے تعلق قائم رکھے اور جس طرح بھی ہو علیحدگی اختیار کرے  اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس حالت میں بیوی کو شوہر کے حوالے کرے اور اگر جبراً شوہر کو بیوی دلوادی جائے اور بیوی بھاگنے پر اور مال دے کر چھڑانے پر قادر نہ ہو تو بیوی گنہگار نہ ہوگی بلکہ شوہر گنہگار ہوگا۔
:الدر المختار ،علاء الدین الحصکفی(م:1088ھ) (3/ 420،421)ايچ۔ايم۔سعيد
(سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها۔۔۔۔۔وفيها: لو لم يقدر هو أن يتخلص عنها ولو غاب سحرته وردته إليها لا يحل له قتلها، ويبعد عنها جهده (وقيل لا) تقتله، قائله
الاسبيجابي (وبه يفتى)۔
:رد المحتار ،ابن عابدین الشامی(م:1252ھ) (3/ 251)ايچ۔ايم۔سعيد
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه۔
:  البحرالرائق، ابن نجيم المصري (م: 970ه)(3/ 448،449)رشيدية
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه . ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث.12۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس