بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کےمختلف الفاظ” آزادہے ،فارغ ہے،علیحدہ ہوجاؤ”مختلف اوقات میں باربارکہنا

سوال

آج سےتقریباًتین سال پہلےاسدنے مجھےان الفاظ میں کہاکہ میری طرف سے”تم فارغ ہو”میری جان چھوڑ، اس کےبعددوسال پہلےچھوٹی عیدپریہی الفاظ اس نےدہرائےکہ” میری طرف سےتم آزادہو،جہاں مرضی جاؤ “۔اس کےبعداس کامعمول بن گیااورذراسی بات پریہی الفاظ دہرادیتاتھا۔کہ” تم بےشک بچےکوبھی لےجاؤمیری طرف سےفارغ ہو،تم علیحدگی لےلو۔مجھےتمام ذمہ داریوں سےآزادکردو “ان الفاظ کےبعدوہ کلمہ پڑھ کرکہتاکہ میرایہ مطلب نہیں تھا،مجھےمعاف کردو۔ فروری کےمہینے میں اس نےمجھےکہاکہ “ميری طرف سےتم آزادہواورمیری جان چھوڑدو،بےشک جہاں مرضی جاؤ”۔اس کےبعدسےہماراکسی قسم کاکوئی تعلق نہیں ہےاس کےعلاوہ بھی جہاں اس کادل کرتااوراس پرکسی قسم کی ذمہ داری ڈالی جاتی یاكسی کام کاکہاجاتاتویہی الفاظ کہتا۔اب پوچھنایہ ہےکہ مذکورہ صورتحال میں ہمارانکاح برقرارہےیانکاح ختم ہوچکاہے۔اب میرادوبارہ ان سےصلح کرناممکن نہیں ،کیامیرےلیےکسی دوسری جگہ پرنکاح کرناجائز ہےیانہیں؟

جواب

سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق شوہرنےمتعدداوقات میں طلاق کےمختلف الفاظ استعمال کئےہیں لہٰذا مذکورہ صورتِ حال میں یہ نکاح ختم ہوچکاہے اورمذکورہ عورت اپنےاولیاءکی سرپرستی میں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
ردالمحتارالعلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 300)سعيد
  (قوله سرحتك) من السراح بفتح السين:وهوالإرسال أي أرسلتك لأني طلقتك أولحاجة لي،وكذافارقتك لأني طلقتك أوفي هذاالمنزل نهر۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 529)سعيد
وفيه عن الجوهرة: أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات، أو طلقها ثلاثا، أو أتاها منه كتاب على يد ثقة بالطلاق. إن أكبر رأيها أنه حق فلا بأس أن تعتد وتتزوج، وكذا لو قالت امرأته لرجل طلقني زوجي وانقضت عدتي لا بأس أن ينكحها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس