بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کےبعد بیوی اور بچوں کاخرچہ

سوال

نمبر۱۔طلاق کےبعدبیوی کاخرچہ شوہرپرلازم ہےیانہیں؟
نمبر۲۔ طلاق کےبعدبچےکاخرچہ باپ پرہےیاماں پر؟

جواب

نمبر۱۔طلاق دینےکےبعدبیوی کاخرچہ (نان ونفقہ اوررہائش وغیرہ)شوہرپرلازم ہےعدت مکمل ہونےتک (جب تک تین ماہواریاں مکمل نہ ہوں)۔
نمبر۲۔بنیادی طورپربچےکاخرچہ باپ پرہےاگربچےکےپاس اپنا مال نہ ہو۔
الدرالمختار،العلامة علاء الدين الحصكفي(م: 1088هـ)(3/ 612)سعيد
(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير)۔
ردالمحتار، العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ)(3/ 612) سعيد
(قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى۔
وفیه ايضا (3/ 562)سعيد
(قوله: ثم حرر) أي الخير الرملي أن الحضانة كالرضاع أي في أنها لا أجر للأم فيها لو منكوحة، أو معتدة، وإلا فلها الأجرة من مال الصغير إن كان له مال، وإلا فمن مال أبيه، أو من تلزمه نفقته، هذا خلاصة ما حط عليه رأيه بعد كلام طويل، وقد علمت تأييده بما نقلناه عن خط السائحاني۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس