بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کی تعداد میں میاں بیوی کا اختلاف اور عدت گزر نے کے بعد کا حکم

سوال

ایک شخص نے ایک مرد اور دوعورتوں کے سامنے اقرارکیاکہ میں نے اپنی بیوی کو دوطلاقیں دے دی ہیں ، جبکہ بیوی کا بیان یہ ہے کہ اس نے مجھے سات طلاقیں دی ہیں،میں نے خود اس سے سات مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہیں ۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت بھی گزرچکی ہے اس دوران خاوند نے رجوع نہیں کیا، اور اب خاوند بیوی کواپنے ساتھ رکھنا چاہتاہے جبکہ عورت اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے۔
پوچھنایہ ہے کہ ایسی صورتِ حال میں مذکورہ نکاح برقرارہے یا ختم ہوچکاہے اور کیاشوہر بیوی کو دوبارہ صلح پر مجبور کرسکتاہے؟

جواب

طلاق کی تعداد میں اختلاف

صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی دونوں کے بیان کے مطابق یہ نکاح ختم ہوچکاہے۔لہٰذاشوہر عورت کو کسی صورت میں اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا، بلکہ اس عورت کے لئے دوسری جگہ شادی کرنا جائزہے، خاص کر جب عورت نے شوہرسےخود سات مرتبہ طلاق کے الفاظ سنے ہیں تو اس کے لئے شوہر کے ساتھ صلح کرنا جائزنہیں۔
البحر الرائق، ابن نجيم المصري(م: 970هـ)(3/277 )دار الكتاب الإسلامي
ویدین فی الوثاق والقید ویقع قضاءإلاأن یکون مکرها، والمرأة  کالقاضی إذا سمعته أوأخبرها عدل لایحل لها تمکینه۔
  العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية،ابن عابدين الشامي(1/ 37)رشيدية
وقال في الخانية لو قال أنت طالق أنت طالق أنت طالق وقال أردت به التكرار صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا. اهـ. ومثله في الأشباه والحدادي وزاد الزيلعي أن المرأة كالقاضي فلا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو علمت به لأنها لا تعلم إلا الظاهر۔
الفتاوى الهندية (1/ 507)دارالفکر
لو قال لامرأته: أنت علي كظهر أمي كان مظاهرا سواء نوى الظهار أو لا نية له أصلا وكذا إذا نوى الكرامة والمنزلة أو الطلاق أو تحريم اليمين لا يكون إلا ظهارا ولو قال: أردت به الإخبار عما مضى كذبا لا يصدق في القضاء ولا يسع المرأة أن تصدقه كما لا يسع القاضي ويصدق فيما بينه وبين الله – تعالى۔
الفتاوی البزازیة ، الشیخ العلامة محمدبن محمد البریقینی(م: 827ھـ)(1/227) دارالکتب العلمیة
سمعت الطلاق زوجها إیاها ثلاثا… وفی النوازل حرمت علیه بثلاث ویمسکها یباح لها أن تتزوج باخر من غیر علم الزوج۔
بدائع الصنائع، علاء الدين الكاساني(م: 587هـ) (3/ 180) دار الكتب العلمية
 أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس