ایک شخص نے غصے میں آکر اپنے والد سے ثلاثا طلاق اٹھایا کہ میں اس گھر میں آج رات کے علاوہ اور رات نہیں گزارونگا۔ اب یہ شخص آنے والی رات سے پہلے اکیلا جائیگا یا بیوی اور اپنے بچے بھی ساتھ لے جائے ۔ بعض علما نے کہا ہے کہ آنے والی رات سے پہلے خود بھی ااور بیوی اور بچے اور سامان جہیز بھی ساتھ لے کر جائے وضاحت فرمائیں۔
صورت مسئولہ ميں مذكوره شخص نے طلاق كو گهر ميں رات نہ گزارنے كے ساتھ معلق كيا ہے اب اگر يہ شخص اس گهر ميں رات گزارے گا تو اسكی بيوی پر تين طلاقيں واقع ہو جائيں گی ۔البتہ يہ شخص اس گهر سے اكيلا جائے گا يا اپنے بيوی بچوں كو ساتھ لے كر جائے گا يہ اس كی نيت پر موقوف ہے ۔اگر اس نے بيوی بچوں كی بهی نیت كی ہو تو ان كو بھی لے كر جانا ضروری ہے اور اگر گهر والوں كی نيت نہ كی ہو تو اس شخص كا اكيلا نكلنا ضروری ہے۔
الدر المختار(4/600)رشیدیۃ
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔
رد المحتار(4/596)رشیدیۃ
(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة وتحتہ فی الشامی: (قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى۔
الفتاوي الهندية (1/457)بیروت
واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا۔