بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کو معلق کرنا

سوال

میری پرچون کی دکان ہے اورمیرے ساتھ چھوٹا بھائی بھی ہوتاہے، ہم دونوں کےدرمیان جھگڑاہوگیا، چھوٹےبھائی نے کہا کہ میں کراچی جاتاہوں۔ میں نےاپنےبھائی سےکہا کہ تم جاؤ اور مجھ پر میری بیوی طلاق ہو اگر میں اس دکان میں جاؤں ۔ اصل میں میں نےاس ارادےسےطلاق کےالفاظ نہیں کہےکہ ہمیشہ اس دکان میں نہیں جاؤں گا، بلکہ اس ارادے سےکہے کہ اگر تم مجھےچھوڑ کرکراچی گئےتومیں بھی یہ دکان نہیں چلاؤں گا اوربعد میں بھائی کراچی جانےسےرک گیا،کیا اب میں دکان چلاسکتا ہوں یانہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بشرط صحت بیان آپ مذکورہ دکان چلاسکتے ہیں، اس میں جانے اوراسے چلا نے سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
:فی الدر المختار محمد بن علي،علاء الدين الحصكفي (م: 1088هـ) (3/ 761 )ط: سعيد
(وشرط للحنث في) قوله (إن خرجت مثلا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب(فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه، وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة – رحمه الله – بإظهارها ولم يخالفه أحد۔
:رد المحتار ،ابن عابدين، محمد أمين بن عمر، الدمشقي (م: 1252هـ) (3/761 )ط: سعيد
تهيأت للخروج، فحلف لا تخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لا يحنث لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال إن خرجت الساعة۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس