اگر کوئی شخص یوں کہے کہ اگر میں نے یہ کام کیا مثلاً فلاں سے بات کی تو اس صورت میں میرا اگر فلاں عورت (عائشہ)سے نکاح ہوجائے تواس کو طلاق۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں اس شخص سے یہ کام صادر ہوگیا ، تو اس عورت کو کیاطلاق واقع ہوگی ؟نکاح کرنے کی صورت میں اور اگر طلاق واقع ہوجائے گی تو کونسی ہوگی ،نیزاس بات کی بھی تصریح فر مائیں کہ حلالہ شرعیہ کی ضرورت ہوگی یانہیں؟
صورتِ مسئولہ ميں اگر قسم اٹھانے والے شخص نے پہلےشخصِ مذکورسے بات کی اور پھر اس کانکاح عائشہ سے ہوگیا تو عائشہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی ، جس کاحکم یہ ہے کہ مذکورہ مردوعورت عدت کے دوران اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نئے مہر کے عوض نیا نکاح کرسکتے ہیں اورآئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہے۔ لیکن اگر اس صورت میں پہلے نکاح کیااور بعدمیں بات کی توطلاق واقع نہیں ہوگی۔