بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کا میسج ، طلاق کی نیت سے بار بار بھیجنا

سوال

میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس نے بار بار طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے اسے ایک واٹس ایپ میسج کردیا( میں آپ کو طلاق دیتا ہوں تاکہ آپ اپنے پہلے شوہر سے بچوں کی خاطر شادی کرسکیں) لیکن وہ بولی تین دفعہ دو۔ لیکن میں کہا میں نہیں دینا چاہتالیکن وہ نہیں مانی ۔ پھر میں نے اسی میسج کو نہ چاہتے ہوئے دو دفعہ اور بھیج دیا۔ 4 سال ہوگئے ہیں اس نے شادی نہیں کی۔ کیا میں دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہوں کیوں کہ شرط صرف یہ تھی کہ وہ پہلے شوہر سے شادی کرے گی جو کہ اس نے نہیں کی۔

جواب

صورت مسئولہ میں مزید طلاق دینے کی نیت سےطلاق کا میسج مزید دو بار بھیجنے سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے اور آپ ایک دوسرے پر حرام ہو گئے ہیں لہذا آپ کا مذکورہ عورت سے نکاح بدون حلالہ شرعیہ کرنا جائز نہیں ۔
قال تعالیٰ فی البقرہ 90:فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
احکام القرآن للجصاص (1/527)قدیمی
یدل علی وقوع الثلاثۃ معا مع کونہ منہیا عنھا۔۔۔ وفیھا الدلالۃ من وجہ آخر وھو قولہ تعالیٰ فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنتین ولم یفرق بین ایقاعھما  فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ای وجہ اوقعہ من مسنون اوغیر مسنون ومباح او محظور
الفتاوی الھندیۃ (1/414) بیروت
ان کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ ان نوی الطلاق یقع والا فلا وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس