صورتِ مسئولہ میں شوہر نے فون پر جو یہ کہا کہ: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” اس سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی اور شوہر کو عدت کے اندر اندر رجوع کا حق حاصل ہے ، نیز شوہر کا پنے نسبتی بھائی کو یہ کہنا کہ : ” میں نے تمہاری بہن کو فارغ کردیا “طلاق کی خبر دینا ہے ،لہذا اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لیکن اگر شوہر کی مراد اس سے مزید طلاق دینا ہو تو اس سے طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور اب کل ملا کر یہ دو طلاقیں ہو گئیں اور اس صورت میں بغیر تجدیدِ نکاح کے رجوع جائز نہیں اور مذکورہ صورت میں آئندہ کے لئے شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا ۔
:قال الله تعالیٰ
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (129 ، البقرۃ)۔
:روح البيان (1/ 356) دار الفكر
فالطلاق الذي يثبت فيه للزوج حق المراجعة هو ان يوجد طلقتان فقط۔
:بدائع الصنائع (3/ 102) دار الكتب العلمية
ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار۔
:الفتاوى الهندية (1/ 472) دار الفكر
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدةوبعد انقضائها۔