ہماری 2008 میں شادی کے ساتھ ہی جھگڑے شروع ہو گئے میرے میاں نے تین چار مرتبہ صاف کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیج دی جس پر صرف ان کے اپنے دستخط ہی تھے کوئی گواہ نہیں تھا۔ اس کے بعد 2011 اکتوبر اس نے ایک اشٹامپ پیپر پر طلاق بھیج دی اس میں اس کے اپنے دستخطوں کے ساتھ گواہوں کے دستخط بھی ہیں اس کے بعد میرے میاں نے یونین کونسل میں بھی دے دی 90 دن کے اندر اندر انہوں نے زبانی کہا کہ میں طلاق واپس لیتا ہوں اس پر یونین کونسل والوں نے سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ اب وہ کہتے پھر رہے ہیں کہ انہوں نے علماء سے پوچھا ہے کہ وہ اب بھی صلح کر سکتے ہیں چونکہ میرے میاں کے نزدیک زبانی طلاق کوئی معنی نہیں رکھتی اس طرح سے ہمارے درمیان صرف ایک طلاق بائن ہوئی ہے اس لیے ہم تجدید نکاح کر سکتے ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست ہے تو اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو گئی ہے اور ایک دوسرے پر حرام ہو گئے ہیں۔ سائلہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ مزید اس شخص کے ساتھ زندگی بسر کرے ۔اب سائلہ کہیں اور نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
واضح رہے کہ حلالہ کی شرط پردوسری جگہ شادی کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ البتہ اگر عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لیں اور ہمبستری بھی ہو جائے پھر دوسرے شوہر کا انتقال ہو جائے یا وہ کسی وجہ سے طلاق دے دے تو عدت گزرنے کے بعد پہلے شوہر کے ساتھ نئے مہر کے عوض نیا نکاح کرنا جائز ہے۔
أحكام القرآن للجصاص (۲/83)
قوله تعالى: {فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار، فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
صحيح البخاري (رقم الحدیث: 5246)
وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك ۔
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (20/234)
قوله تعالى: {الطلاق مرتان} معناه: مرة بعد مرة»واذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولا تملیکہ.۔
سنن أبي داود (رقم الحدیث : 2194)
عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة۔
الفتاوى الهندية(۱/73,472)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔
الفتاوی الولوالجیۃ ( 2/100) بیروت
ولا تحل المراۃ بعد ماوقع علیھا ثلاث تطلیقات حتی تنکح زوجا غیرہ و یدخل بھا۔
الفتاوى الهندية (۱/355)
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج۔
الدر المختار (3/305) سعید
ان المراۃ کالقاضی لایحل لہا ان تمکنہ اذا علمت منہ ما ظاہرہ خلاف مدعاہ۔