بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق نامہ کے ذریعے تین طلاق دینا

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص نے منسلکہ طلاق نامہ کے ذریعے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا طلاق واقع ہوگئی ہیں یا نہیں؟

جواب

منسلکہ طلاق نامہ کی روسے مذکورہ خاتون پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور مرد وعورت دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں، ان دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں ۔ موجودہ صورتِ حال میں وہ نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیا نکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں ۔ عورت کو اپنے اولیا کی سرپرستی میں دوسری جگہ شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
قال اللہ تعالی [البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
صحيح البخاري (2/792)محمودیة
حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك
أحكام القرآن للجصاص (1/ 527) قدیمی 
يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها۔۔۔   وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهوقوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس