بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق معلق سے فی الفور طلاق سمجھ کر طلاق کا اقرار کرنا

سوال

ساس اور بہو کے جھگڑے کے درمیان بیٹے نے آکر ماں کو کہا اگر آپ خاموش نہ ہوئیں تو میری طرف سے ” ایک بھی ہے ، دوسری بھی ہے اور تیسری بھی ہے مذکورہ بات سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کہی۔ پھر بعد میں کمرے میں جا کر اپنے بیٹے کو کہا میں نے ” تیری ماں کو طلاق دے دی ہے اپنی بہنوں کو سنھبال لینا ” پھر یہ شخص روڈ پر چلا گیا اور کزنوں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو اس نے کہا میں بیوی کو طلاق دے کر آیا ہوں اس لئے میرایہ حال ہے ” آیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟
واضح رہے کہ ان جملوں کو کہنے کے بعد ماں اور بیوی خاموش ہو گئی تھیں اور شوہرنے ڈرانے کیلئے یہ الفاظ کہے تھے طلاق کی نیت سے نہیں۔بلکہ شوہر کا کہنا ہے کہ ان الفاظ کےکہنے کے بعد میرے ذہن میں خیال آیا کہ شائد ان الفاظ سے طلاق ہو جاتی ہے اس لئے بیٹے کو کہا میں نے تیری ماں کو طلاق دیدی ہے ۔اسی طرح یہ سمجھتے ہوئے کزنوں کو بھی بتایا ۔

جواب

مذکورہ صورت میں طلاق کی خبر دینے کی وجہ سےقضاءً ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ۔
الدر المختار (3/ 355)
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا
الأشباہ والنظائر(۱/۴۰۰)ادارۃ القرآن والعلوم الإسلامية
ولو أقر بطلاق زوجته ظاناً الوقوع بإفتاء المفتي ،فتبين عدمه لم يقع، كما في القنية وقال الحموي (قوله لم يقع )أى ديانة،أما قضاءً:فيقع كما في القنية لإقراره به
احسن الفتاوی(۵/۱۵۷)اشاعت اسلام
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس