بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق دینے کےبعدشوہرکےلیےدوسرانکاح کرنا

سوال

بندہ نےاپنی بیوی کوایک طلاق دی ہےاورتين ماہواریاں گزرکرعدت بھی پوری ہوچکی ہے۔توبرائےکرم یہ بتلادیجئےکہ
نمبر۱۔شرعی اورقانونی طورپرمیری بیوی کی مجھ سےعلیحدگی ہوگئی یا نہیں؟
نمبر۲۔ اور کیاشوہرکودوسری جگہ شادی کرنےکاحق حاصل ہےیانہیں؟

جواب

نمبر۱۔صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ ً خاتون کی عدت گزرچکی ہےاورعدت کے دوران زبان سے یاعمل(مثلاً بوس وکنار وغیرہ)سے رجوع نہ کیاہو تو شرعاًمیاں بیوی کے درمیان علیحدگی واقع ہوگئی ہے اور بیوی اپنے اولیاء کی سرپرستی میں جہاں نکاح کرناچاہے کرسکتی ہے۔
نمبر۲۔شریعت کی رُوسےشوہرکودوسری شادی کرنے کاحق حاصل ہے، بلکہ اگرشوہرنے طلاق نہ بھی دی ہوتی تب بھی اس کے لئے دوسری شادی کرنے میں شرعاًکوئی ممانعت نہیں تھی۔
قال الله تبارک وتعالیٰ:(سورةالنساء:3)
{فَانْكِحُوامَاطَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ}
تفسيرابن كثير،أبوالفداءإسماعيل بن عمر(م: 774هـ)(2 / 183)دارطيبة
قوله:مثنى وثلاث ورباع أي انكحوا ما شئتم من النساء سواهن إن شاء أحدكم ثنتين وإن شاء ثلاثا،وإن شاء أربعا
الفتاوى الهندية (1 / 470)دارالفکر
وإذاطلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أوتطليقتين فله أن يراجعهافي عدتها رضيت بذلك أولم ترض كذافي الهداية
 المحيط البرهاني،برهان الدين محمود بن أحمد الحنفي (م: 616هـ)(3/ 426)العلمية
وإذاانقضت العدّة فقد بطل حقّ المراجعة، وإنّما يعرف انقضاء العدّة: إذا كانت المرأة من ذوات الأشهر، بأن كانت آيسة أو صغيرة بمعنى ثلاثة أشهر، وإن كانت من ذوات الأقراء فإن كان حيضها عشراً فجرى انقطاع الدّم، وإن كان أيّام حيضها أقلّ من عشرة فحين تغتسل أو يمضي عليها وقت صلاة كامل
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس