بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق احسن دینے کا طریقہ ، عورت کا عدت کے بعد کسی اور سے نکاح کرنا

سوال

شریعت میں طلاق دینے کا احسن طریقہ کیا ہے ؟ کیا ایک دینے سے طلاق ہو جاتی ہے اور کیا عورت عدت کے بعد کسی اور سے نکاح کر سکتی ہے؟

جواب

شریعت میں طلاق دینے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو ایک طلاق رجعی ایسے طہر میں دے کہ جس میں اس نے بیوی سے ہمبستری نہ کی ہو اور عدت گزر نے تک بیوی سے جد ارہے۔
        اگر عاقل بالغ شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے تو ایک طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ اور عدت کے اندر رجوع کاحق حاصل ہوتاہے ۔ البتہ عدت گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجاتاہے اس کے بعد اگر دونوں اکٹھے رہنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نیا نکاح کرسکتے ہیں اور اگر خاتون دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو اپنے اولیاء کی سرپرستی میں کرسکتی ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 348)
فالأحسن أن يطلق امرأته واحدة رجعية في طهر لم يجامعها فيه ثم يتركها حتى تنقضي عدتها أو كانت حاملا قد استبان حملها
رد المحتار على الدر المختار (3/ 235)
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 88)
أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه ولا طلاق ولا في حيضة طلاق ولا جماع ويتركها حتى تنقضي عدتها ثلاث حيضات إن كانت حرة وإن كانت أمة حيضتان، والأصل فيه ما روي عن إبراهيم النخعي – رحمه الله- أنه قال كان أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يستحسنون أن لا يطلقوا للسنة إلا واحدة ثم لا يطلقوا غير ذلك حتى تنقضي العدة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس