بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاقِ ثلاثہ کا تفصیلی فتوی

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں غصہ کی حالت میں تین طلاق (طلاقِ ثلاثہ) دے دیں لیکن بعض حضرات تین طلاق کو ایک طلاق شمار کرتے ہیں ۔ کیا ایک ہی مجلس میں دی ہوئی تین طلاقیں ایک طلاق ہوگی یا تین طلاقیں ہوں گی؟

جواب

واضح رہے کہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی جائیں یا علیحدہ علیحدہ، ایک جملہ میں دی جائیں یا الگ الگ کئی جملوں میں،بہر صورت تینوں ہی طلاقیں واقع ہو تی ہیں۔اگرچہ یہی بات قرآن، حدیث، اجماعِ اُمّت سے ثابت اور چاروں ائمہ ودیگرفقہائے کرام (رحمہم اللہ تعالی)کا مذہب ہے۔
اکٹھی تین طلاقیں دینے کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اس پرتوبہ اور استغفار لازم ہو تی ہے۔
نیز شرعاً حالت ِ حمل میں بھی طلاق واقع ہو جا تی ہے، اور اسی طرح ڈرانے دھمکانے کی نیّت سے اور غصہ کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہنےسے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہیں۔یاد رہے کہ طلاق کے الفاظ خوشی کی حالت میں نہیں بولے جاتے۔ ذیل میں قرآن و حدیث اور اجماع سے جداگانہ طور پر تفصیلی دلائل ائمہ سلف کی عبارات کی روشنی میں ملاحظہ فر مائیں
قرآن و تفسیر
قال الله تعالىٰ [البقرة : 229]
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَان
وقال تعالىٰ [البقرة : 230]
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ

        اہل علم نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر۲۲۹سے یکبارگی تین طلاقیں دینے سےتین طلاقوں کے واقع ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ طلاق (زیادہ سے زیادہ )دو بار ہونی چاہئے، اب اس میں دونوں احتمال موجو د ہیں کہ وہ دو طلاقیں اپنی بیوی کے مختلف پاکی کے زمانوں میں الگ الگ کر کے دی جائیں یا  اُس کے ایک ہی پاکی کے زمانے میں یکبارگی دو طلاقیں دی جائیں  دونوں صورتوں میں دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ جب دو طلاقیں یکبارگی دینے سے دو طلاقیں واقع ہو تی ہیں تو تین طلاقیں یکبارگی دینے سے بھی تین طلاقیں ہی واقع ہوں گی؛ اس لئے کہ دو اور تین میں فرق کرنے والی کوئی چیزنہیں ہے۔ نیز سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ کی تفسیر میں مفسرینِ کرامؒ نے اس بات کی صراحت بھی فرمائی ہے کہ ایک جملہ سے یا  ایک مجلس میں تین الگ الگ جملوں سے تین  طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ چنانچہ کتب تفاسیر ملاحظہ فرمائیں

أحكام القرآن،أبو بكر الرازي الجصاص (م: 370هـ)(2 / 83) دار إحياء التراث العربي
فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الإثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار
تفسير القرطبي، أبو عبد الله محمد بن أحمد القرطبي (م: 671هـ)(3 / 129) دار الكتب
قال علماؤنا واتفق أئمة الفتوى على لزوم إيقاع الطلاق الثلاث في كلمة واحدة
التفسير المظهري، القاضي محمد ثناء الله الفاني(م:1225 هـ)(1 / 300) الرشدية
أجمعوا على أنه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع

احادیث مبارکہ

صحيح البخاري ، محمد بن إسماعيل البخاري(م: 256 هـ)(2/ 791)محمودية
عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول

 یہ حدیث امام بخاری ؒنے (باب من أجاز طلاق الثلاث) عنوان کے تحت ذکر فرمائی ،جس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں خواہ ایک ساتھ دی جا ئیں یا  الگ الگ دی جائیں دونوں صورتوں میں  تین ہی واقع ہوں گی۔ اسی عنوان کی تشریح  علامہ ابنِ حجر ؒنے ان الفاظ میں کی ہے

فتح الباري لابن حجرالعسقلانی(م: 852 هـ)(9 / 365)دار المعرفة
والذي يظهر لي أنه كان أراد بالترجمة مطلق وجود الثلاث مفرقة كانت أو مجموعة
السنن النسائي لأبي عبد الرحمن أحمد بن شعيب النسائي (م: 303هـ) (6/ 142)
أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا ثم قال: «أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟».

 اس روایت میں آپ ﷺ نے شدید غصے کا اظہار تو فرمایا، لیکن یکبارگی دی گئی تین طلاقوں کو ایک قرار نہیں دیا، بلکہ تینوں کو  نا فذ فرمایا، جیسا کہ حافظ ابنِ قیم ؒ نے فرماتے ہیں

فلم يرد النبي صلى الله عليه و سلم بل أمضاه: حاشية ابن القيم على سنن أبي داود – (6 / 203)

اس حدیث کی سند کے بارے میں ملاحظہ کیجئے کہ علمائے کرام کیا فر ماتے ہیں ؟

نمبر۱۔ “رواه النسائي ورواته موثقون “(بلوغ المرام من أدلة الأحكام،ابن حجر العسقلاني (م: 852  هـ)(237)اسلامي اكادمي)

نمبر ۲۔   “وقد ورد في هذا الباب حديث صحيح صريح فأخرج النسائي في باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ بسند صحيح عن محمود بن لبيد”(الجوهر النقي، ابن التركماني علاء الدين علي بن عثمان،(م: 750هـ)(7 / 333)دار الفكر)

نمبر ۳۔   “إسناده على شرط مسلم”(زاد المعاد في هدي خير العباد، ابن قيم الجوزية (م: 751هـ) (5 / 220) مكتبة المنار الإسلامية)
سنن أبى داود، سليمان بن الأشعث السجستاني (م: 275هـ) (1/ 306)محمودية
عن سهل بن سعد فى هذا الخبر قال فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فأنفذه رسول الله -صلى الله عليه وسلم

اس روایت کو علامہ ابنِ حجر ؒ نے ایک دوسرے مسئلہ میں بطور تائید کے پیش فرمایا جس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث اُن کےنزدیک  قابل ِ استدلال ہے

فتح الباري لابن حجرالعسقلانی(م: 852 هـ)(9 / 452) دار المعرفة
يؤيده ما وقع عند أبي داود من طريق عياض بن عبد الله الفهري عن ابن شهاب عن سهل قال فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنفذه رسول الله صلى الله عليه و سلم

ان احاديث كے علاوه اور بھی کئی احادیث مبارکہ موجود ہیں، جن سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مبارک دور میں بھی ایک جملہ سے یا  ایک مجلس میں تین الگ الگ جملوں سے تین  طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی تھیں۔

شروحِ حدیث

نیز زیرِ بحث مسئلہ میں شراحِ حدیث کی عبارات ملاحظہ فرمائیں

عمدة القاري ، بدر الدين العينى (م: 855هـ)(20 / 233)دار إحياء التراث العربي
ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه  وأحمد  وأصحابه وإسحاق وأبو ثور  وأبو عبيد  وآخرون كثيرون علی أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن ولكنه يأثم
حاشية السندي على النسائي ، أبو الحسن، نور الدين السندي (م: 1138هـ)(6 / 143) المطبوعات الإسلامية
والجمهور على أنه إذا جمع بين الثلاث يقع الثلاث ولا عبرة بخلاف ذلك عندهم أصلا
شرح النووي على مسلم ، يحيى بن شرف النووي (م: 676هـ)(10 / 70)دار إحياء التراث العربي
قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث

مذکورہ بالاشراحِ حدیث کے کلام سے بھی یہ ثابت ہوا کہ ایک جملہ سے یا ایک مجلس میں تین الگ الگ جملوں  میں تین  طلاقیں دینے سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اس کےساتھ بخاری شریف کےعظیم شارح علامہ ابنِ حجر عسقلانی     رحمہ اللہ تعالیٰ کا مؤقف بھی پڑہیئے کہ وہ اس کےمتعلق لکھتے ہیں

فتح الباري،  العلامةابن حجر العسقلاني(م: 852 هـ)(9 / 365)دار المعرفة
فالراجح في الموضعين تحريم المتعة وإيقاع الثلاث للإجماع الذي انعقد في عهد عمر على ذلك ولا يحفظ أن أحدا في عهد عمر خالفه في واحدة منهما وقد دل إجماعهم على وجود ناسخ وإن كان خفي عن بعضهم قبل ذلك حتى ظهر لجميعهم في عهد عمر فالمخالف بعد هذا الإجماع منابذ له والجمهور على عدم اعتبار من أحدث الاختلاف بعد الاتفاق والله أعلم

 معلوم ہوا کہ علامہ ابنِ حجرؒ کےنزدیک بھی جب  شوہریکبارگی تین طلاقیں دے تو تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا درست نہیں۔ حضرات ِصحابہ کرام ؓ کےفتاوی اور آثار میں بھی یہ بات ملتی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں۔ چنانچہ دیکھئے

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی
المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة (م: 235هـ)(4/ 61) مكتبة الرشد
عن أنس، قال: «كان عمر إذا أتي برجل قد طلق امرأته ثلاثا في مجلس أوجعه ضربا وفرق بينهما»
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی
 المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة (م: 235هـ)(4/ 62) مكتبة الرشد
عن معاوية بن أبي يحيى قال: جاء رجل إلى عثمان فقال: إني طلقت امرأتي مائة قال: «ثلاث تحرمها عليك، وسبعة وتسعون عدوان»
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی
المصنف لأبي بكر بن أبي شيبة (م: 235هـ)(4/ 62) مكتبة الرشد
عن الأعمش، عن حبيب، عن رجل من أهل مكة قال: جاء رجل إلى علي فقال: إني طلقت امرأتي ألفا، قال: «الثلاث تحرمها عليك، واقسم سائرهن بين أهلك»
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی 
المصنف لأبي بكر عبد الرزاق الصنعاني (م: 211هـ) (6 / 396) المجلس العلمي
عن بن جريج قال أخبرني عبد الحميد بن رافع عن عطاء – بعد وفاته – أن رجلا قال لابن عباس رجل طلق امرأته مئة فقال ابن عباس: يأخذ من ذلك ثلاثا ويدع سبعا وتسعين
حضرت عبد الله بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتوی
المصنف لأبي بكر عبد الرزاق الصنعاني (م: 211هـ)(6 / 395) المجلس العلمي
عن معمر عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال جاء رجل إلى بن مسعود فقال إني طلقت امرأتي تسعة وتسعين وإني سألت فقيل لي قد بانت مني فقال ابن مسعود لقد أحبوا أن يفرقوا بينك وبينها قال فما تقول رحمك الله – فظن أنه سيرخص له – فقال ثلاث تبينها منك وسائرها عدوان
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اثر
السنن الكبرى ، لأبي بكر أحمد بن الحسين البيهقي (م: 458هـ)(7/ 547) دار الكتب العلمية
حدثنا حسن، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن علي رضي الله عنه فيمن طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها قال: ” لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره “
حضرت علی ،حضرت ابنِ مسعوداور حضرت زید بن ثابت (رضوان اللہ علیہم) کااثر
المصنف لأبي بكر عبد الرزاق الصنعاني (م: 211هـ)(6 / 336) المجلس العلمي
أن عليا وبن مسعود وزيد بن ثابت قالوا إذا طلق البكر ثلاثا فجمعها لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره فإن فرقها بانت بالأولى ولم تكن الأخريين شيئا
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اثر
السنن الكبرى ، لأبي بكر أحمد بن الحسين البيهقي (م: 458هـ) (7/ 549)دار الكتب العلمية
عن ابن عمر قال : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره

درج بالاصحابہ کرام ؓ کے فتاوی اور آثار سے بھی یہ بات ثابت ہوئی کہ یکبارگی دی گئی  تین طلاقیں  تین ہی شمار ہوتی ہیں،بالخصوص جن فتاوی اور  آثار میں ’’فی المجلس‘‘ یا ’’قبل أن يدخل بها‘‘ کے الفاظ مذکور ہیں ، ان میں تو یہ تاویل بھی نہیں ہوسکتی کہ مذکورہ فتاوی اور آثار اس صورت سے متعلق ہیں جس میں شوہر نے اپنی بیوی کو تین مختلف  مجلسوں میں تین طلاقیں دی ہوں، اس لئے کہ’’فی المجلس‘‘ کے الفاظ کی موجودگی میں یہ معنی نہیں لیا جا سکتا،اور جن فتاوی اور آثار میں ’’فی المجلس‘‘ کےبجائے’’قبل أن يدخل بها‘‘ کے الفاظ مذکور ہیں   اُن میں بھی یہ تاویل ممکن نہیں ،کیونکہ  اگربیوی سے ازدواجی  تعلقات قائم کرنے سے پہلےہی اُسے الگ الگ الفاظ سے تین طلاقیں دی جائیں تو وہ ایک طلاق سے ہی الگ(بائنہ) ہوجاتی ہے۔ لہٰذامعلوم ہوا کہ یکبارگی تین طلاقیں ،تین ہی شمار ہوں گی۔

ائمۂ  اربعہ رحمہم اللہ

اِس کے علاوہ مشہور ومعروف چاروں اماموں کے نزدیک  بھی ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں عبارات ملاحظہ فرمائیں

امام ابوحنیفہؒ  کے نزدیک

الموطأ للإمام مالك بن أنس المدني بروایۃ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ(م: 179هـ)(1/ 196)المكتبة العلمية
عن محمد بن إياس بن بكير، قال: طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها، ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتي، قال: فذهبت معه، فسأل أبا هريرة، وابن عباس، فقالا: «لا ينكحها حتى تنكح زوجا غيره» ، فقال: إنما كان طلاقي إياها واحدة، قال ابن عباس: «أرسلت من يدك ما كان لك من فضل» ، قال محمد: وبهذا نأخذ، وهو قول أبي حنيفة، والعامة من فقهائنا، لأنه طلقها ثلاثا جميعا، فوقعن عليها جميعا معا

امام مالک ؒ کے نزدیک

التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، أبو عمر يوسف بن عبد النمري القرطبي (م: 463هـ)(15 / 70) المغرب فإن طلقها في كل طهر تطليقة أو طلقها ثلاثا مجتمعات في طهر لم يمسها فيه فقد لزمه وليس بمطلق للسنة عند مالك وجمهور أصحابه

امام شافعی ؒکے نزدیک

 كتاب الأم للإمام الشافعي، أبو عبد الله محمد بن إدريس (م: 204هـ)(5/ 196) دار المعرفة والقرآن يدل … على أن من طلق زوجة له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره

امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک

مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني (م: 241هـ) (1 / 373)المكتب الإسلامي
 قال قلت لأبي: رجل طلق ثلاثا وهو ينوي واحدة قال هي ثلاث  درج بالاحوالہ جا ت میں چاروں اماموں کا متفقہ مؤقف اور مذہب یہی مذکو ر ہےکہ تین طلاقیں مطلقاً تین ہی شمار ہوتی ہیں۔

اجماع

چنانچہ متقدمین علمائے اُمت کے اسی متفقہ فیصلے کومتاخرین علمائے کرام نےاجماع کے عنوان سےاپنی کتابوں میں بیان فرمایاہے۔ ملاحظہ فرمائیں

كتاب الإجماع للإمام ابن المنذر أبو بكر محمد بن إبراهيم النيسابوري (م : 319هـ)(ص:115)الفرقان
وأجمعوا على أنه إن قال لها: أنت طالق ثلاثاً إلا ثلاثاً؛ أنها تطلق ثلاثاً

درج بالاتمام تر تفصیلی عبارات اور نصوص کی روشنی میں یہ بات پیش نظر رہے کہ جو لوگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے ہیں اُن کامؤقف شرعی لحاظ سے  درست نہیں ہے، اس پر عمل کرنا اور تین طلاقوں ک بعددونوں کا(یعنی مطلقہ کااپنے سابق شوہر کےساتھ) میا ں بیوی کی طرح رہنا ہرگزجائز نہیں،سخت گناہ ہے۔ نیز تین طلاقیں دینے کے بعد فائدہ اور نفسانی خواہش کی وجہ سے اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب پر عمل کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ چنانچہ علامہ ابن تیمیہ ؒ(علمائے اہل حدیث جن کی پیروی کادعویٰ  کرتے ہیں اور اپنا مقتدی تسلیم کرتے ہیں)اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں” اپنے فائدہ اور نفسانی خواہش کے پیشِ نظر اپنے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب پر عمل کرنا ناجائزہے اور اس پراُمّت کا اجماع (اتفاق)نقل فرماتے ہے۔ ان کی خود نوشتہ عبارت  ملاحظہ فرمائیں

الفتاوى الكبرى للعلامةابن تيمية أحمد بن عبد  الحليم (م: 728هـ)(3/204)دارالكتب العلمية

وهؤلاء المطلقون لا يفكرون في فساد النكاح بفسق الولي إلا عند الطلاق الثلاث، لا عند الاستمتاع والتوارث، يكونون في وقت يقلدون من يفسده، وفي وقت يقلدون من يصححه؛ بحسب الغرض والهوى، ومثل هذا لا يجوز باتفاق الأمة… ونظي هذا أن يعتقد الرجل ثبوت شفعة الجوار إذا كان طالبا لها، وعدم ثبوتها إذا كان مشتريا، فإن هذا لا يجوز بالإجماع. وكذا من بنى على صحة ولاية الفاسق في حال نكاحه وبنى على فساد ولايته في حال طلاقه لم يجز ذلك بإجماع المسلمين. ولو قال المستفتي المعين: أنا لم أكن أعرف ذلك. وأنا من اليوم ألتزم ذلك، لم يكن من ذلك؛ لأن ذلك يفتح باب التلاعب بالدين، وفتح الذريعة. إلى أن يكون التحليل والتحريم بحسب الأهواء

واضح رہے کہ کسی مسئلہ میں اُمت کا اتفاق(اجماع) ہوجانا اُس مسئلہ کے درست ہونے کی ایک قوی دلیل ہے۔ علامہ ابنِ تیمیہؒ نےبھی اُمت کے متفقہ فیصلے(اجماع) کو ایک ٹھوس دلیل قرار دیا اور ایک جگہ اس بات کی بھی صراحت فرمائی کہ اجماع کےخلاف قائم کی گئی رائےمعتبرنہیں ہے۔ علامہ ابنِ تیمیہؒ   کی عبارت ملاحظہ فرمائیں

مجموع الفتاوى للعلامةابن تيمية(21/ 315) المملكة العربية السعودية
وكذلك إجماع الصحابة أيضا من أقوى الأدلة الشرعية نیز خلاف اجماع قائم کئے گئے مؤقف پر علامہ ابنِ تیمیہ ؒکےشاگرد حافظ ابن قیم نے اپنی کتاب ’’احکام اہل الذمۃ ‘‘ میں ان الفاظ کے ساتھ تبصرہ کیا ہے
أحكام أهل الذمة للعلامة ابن قيم الجوزي (م: 751هـ)(1 / 506) رمادى للنشر
وهذا القول مخالف للكتاب والسنة وإجماع الصحابة والتابعين ومن بعدهم فلا يلتفت إليه

علامہ ابن تیمیہؒ کے بیان کردہ قواعد کی رو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اُن کا اختیار کردہ مؤقف(ایک مجلس کی تین طلاقوں  کوایک قابل ِ صلح یعنی رجوع طلاق قرار دینا) درست نہیں ہے

 اس کے علاوہ سعودی عرب میں شیخ عبداللہ بن بازؒ کےعلاوہ علمائے حرمین سمیت پوری دنیا کے نامور ترین علمائے کرام پر مشتمل تحقیقاتی مجلس میں ایک لفظ کے ذریعہ  تین طلاق  دینے کا مسئلہ پیش ہوا تو بھاری اکثریت کے ساتھ علمائے کرام نے یہ فیصلہ دیا کہ “ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں شرعا “تین ہی شمار ہوں گی۔ اس کے بعد سعودی حکومت نے یہ فیصلہ ’’حکم الطلاق الثلاث بلفظ واحد‘‘ کے نام سے شائع بھی کیا ہے۔

 چونکہ علمائے اہل ِحدیث عام طور سے مختلف فیہ مسائل میں علمائے حرمین کے عمل کو اپنی دلیل میں پیش کرتے ہیں، اس لئےآخرمیں  ایک لفظ  سےتین طلاق دینے کے مسئلہ میں علمائے حرمین  کےفتوے سےمتعلقہ عبارت بطور اقتباس نقل  کی جا تی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

علمائے حرمین کا فتوی

وبعد دراسة المسألة وتداول الرأي واستعراض الأقوال التي قيلت فيها ومناقشة ما على كل قول من إيراد توصل المجلس بأكثريته إلى اختيار القول بوقوع الطلاق الثلاث بلفظ واحد ثلاثا.( مجلة البحوث الإسلامية، الرئاسة العامة لإدارات البحوث العلمية والإفتاء والدعوة والإرشاد ،3 / 165)

چند اعتراضات اور اس کے جوابات

 فریقِ مخالف کی جا نب سے کئےجانے والے چند مشہور فقہی نوعیت کے اعتراضات کے جوابات مختصراً تحریر کئے جا تے ہیں۔مطالعہ کیجئے!

پہلا اعتراض :    بعض حضرات تین طلاقوں کو ایک طلاق کہنے پر’’صحیح مسلم‘‘کی مندرجہ ذیل روایت اپنے مؤقف کی تایید میں پیش کر تے ہیں۔ حدیث یہ ہے

عن ابن عباس قال: كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم. (الصحيح للإمام مسلم بن الحجاج النيسابوري(م: 261هـ) ( 2 / 1099)  دار إحياء التراث العربي)

جواب:        اس حدیث کو بنیاد بناکرتین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا درست نہیں۔ شرّاح ِحدیث نے اس حدیث کے متعدد جوابات دیے ہیں۔ چند ایک ملاحظہ فرمائیں

        نمبر۱۔اس روایت کے متن میں اضطراب پا یا  جا تا ہے،کیونکہ حضرت ابنِ عباسؓ کے دیگر تلامذہ تین طلاقوں کا تین ہونا ہی روایت کرتے ہیں۔صرف حضرت طاؤسؒ حضرت ابنِ عباسؓ کے وہ شاگرد ہیں جو تین طلاقوں کا ایک ہونا روایت کرتے ہیں۔ اور امام بیہقی ؒکی رائے کے مطابق اسی وجہ سے امام بخاریؒ نے اس حدیث کوبخاری  شریف میں ذکر نہیں  کیا۔ امام بیہقیؒ کے الفاظ یہ ہیں

وأظنه إنما تركه لمخالفته سائر الروايات عن ابن عباس.( السنن الكبرى لابي بكرأحمد بن الحسين البيهقي(م: 458هـ)(7/ 551)دار الكتب العلمية)

امام نووی ؒ فرماتے ہیں  کہ جس حدیث میں اضطراب  آجا ئے تو اس کی وجہ سےوہ حدیث  ضعیف ہوجاتی ہے

قال:”والاضطراب يوجب ضعف الحديث”. (التقريب والتيسير، يحيى بن شرف النووي(م: 676هـ)(1 / 45) دار الكتاب العربي)

 حدیث اور اصول حدیث کے ماہر امام نووی ؒ کی مذکورہ عبارت سے یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ مذکورہ بالا روایت میں اضطراب آجانے کی وجہ سےاس کی صحت کسی قدر متأثر ضرور ہوگئی ہے۔ اورابنِ عربی  ؒ کی تصریح کے مطابق اس روایت  کی صحت ہی میں کلام  ہونے کی وجہ سے اسے اُمت کےمتفقہ فیصلہ’’ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہو تی ہیں‘‘ کے خلاف دلیل میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ ابن عربی ؒ کا کلام ملاحظہ ہو ۔

وقال ابن العربي :هذا حديث مختلف في صحته فكيف يقدم على الإجماع
(فتح الباري ، ابن حجر العسقلاني(م: 852 هـ) (9 / 363) دار المعرفة)

        نمبر ۲۔مسلم شریف کے حوالے سے ذکرکی گئی  روایت کے راوی حضرت طاؤس ہیں۔ اس کی سند یہ ہے ’’معمر عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس‘‘۔ جبکہ حضرت ابنِ بطالؒ نےاسی سند کے ساتھ مسلم شریف کےحوالے سے نقل کی گئی روایت کے خلاف ایک روایت نقل کی ہے،جس سے معلوم ہوتاہےکہ صحیح مسلم کی   مذکورہ روایت  کےراوی  حضرت طاؤ سؒ سے اس حدیث کو نقل کرنے میں وہم ہوا۔ صحیح مسلم  کی مذکورہ روایت کے خلاف  ابنِ طاؤس ہی  سے مروی دوسری روایت ملاحظہ فرمائیں

روى معمر ، عن ابن طاوس ، عن أبيه ، قال : كان ابن عباس إذا سئل عن رجل طلق امرأته ثلاثا ، قال : لو اتقيت الله جعل لك مخرجا.هذه الرواية لطاوس ، عن ابن عباس تعارض رواية ابن جريج ، عن ابن طاوس ، عن أبيه ؛ لأن من لا مخرج له قد لزمه من الطلاق ما أوقعه. (شرح صحيح البخارى ـ لابن بطال أبو الحسن علي بن خلف  (م: 449هـ) (7 / 392 )مكتبة الرشد)

حضرت ابنِ بطالؒ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ گنجائش نہ ہونے کامطلب یہی ہے کہ طلاق واقع ہوچکی، لہذا اس حدیث میں روای کے وہم کی وجہ سے یہ روایت زیرِ بحث مسئلہ میں استدلال کے قابلِ نہیں رہی۔

نمبر ۳۔مسلم شریف کے حوالےسے ذکر کی گئی حدیث میں اضطراب اور راوی کے وہم سے قطع نظر، یہ روایت یا  تومنسوخ ہے یا اس میں تاویل کی گنجا ئش ہے۔ اس حدیث کے منسوخ ہونے کا اعلان خود اس حدیث کے راوی  حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے ان الفاظ میں فرمایاہے

وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته فهو أحق برجعتها وإن طلقها ثلاثا  فنسخ ذلك وقال (الطلاق مرتان ). (السنن لأبى داؤد سليمان بن الأشعث السَّجِسْتاني(م: 275هـ)(2 / 225) المكتبة العصرية)

نمبر ۴۔یہ حدیث امام  ابو داؤد ؒکے نزدیک منسوخ ہے، جیسا کہ اُنہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’سنن أبي داؤد‘‘ میں مذکورہ حدیث ’’باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث‘‘کے عنوان کے تحت ذکرفرمائی  ہے، جس سے واضح طور پریہی معلوم ہو تا ہے کہ یہ حدیث اُن کے نزدیک منسوخ ہے۔جیسا کہ اس کی تائیدحضرت ابنِ عباسؓ کی ’’سنن أبى داوؤد‘‘ کےحوالے سے مذکورہ بالا روایت سے بھی ہوتی ہے۔

اسی مضمون پر مشتمل ایک صریح حدیث’’ سنن أبي داؤد‘‘ میں ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے

حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن غير واحد عن طاوس أن رجلا يقال له أبو الصهباء كان كثير السؤال لابن عباس قال أما علمت أن الرجل كان إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبى بكر وصدرا من إمارة عمر قال ابن عباس بلى كان الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبى بكر وصدرا من إمارة عمر فلما رأى الناس قد تتابعوا فيها قال أجيزوهن عليهم.(السنن لأبى داوؤد سليمان بن الأشعث السَّجِسْتاني(م: 275هـ) (2 / 228)  المكتبة العصرية)

درج بالاعبارت میں حضرت ابن ِ عباسؓ کے خط کشیدہ الفاظ سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث  اُس بیوی کو طلاق دینے سے متعلق ہے جس سے شوہر نے جسمانی تعلق(ہمبستری ) قائم نہ کیاہو۔

        حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگ اپنی اُس بیوی   کوجس سے جسمانی (جنسی)تعلق قائم نہیں کیا گیا  اُسے الگ الگ الفاظ’’أنت طالق،أنت طالق،أنت طالق‘‘سے طلاق دیتے تھے، اس صورت میں  پہلی طلاق سے ہی مذکورہ بیوی  بائنہ ہوجاتی تھی اور میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتاتھا۔لیکن حضرت عمر ؓ کے دور میں  لوگ  یکبارگی  تین طلاقیں ان الفاظ ’’أنت طالق ثلاثا‘‘میں  دینے لگے تو حضرت عمؓر نے تینوں  کے واقع ہونے  کاحکم فرما دیا تھا۔

نمبر ۵۔یہ حدیث ایک خاص صورت  سے متعلق ہے، وہ یہ کہ شوہر کا ایک سے زائد طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے مقصود کلام میں تا کید  پیدا کرنا ہو اور ایک سے زائد طلاق کے الفاظ ادا کرنے میں تاکید کی نیت اسلام کے ابتدائی دور میں قبول کی جاتی رہی ہے،لیکن جیسے جیسے عہدِ نبوی ﷺ سے دوری بڑھتی  گئی، تقوی  اور دیانت  کا معیار روز بروز  پست ہوتا دکھائی دیا جانے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں  اِس خاص صورت میں بھی  تاکید کی نیت کو قضاءً غیر معتبر قرار دیدیاگیا، پھراس پرحضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم أجمعین کا  اجماع منعقد  ہوگیا کہ یکبارگی یا  الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولنے سے تین ہی واقع ہونگی اور اعتبار دیانت سے ختم کر کے صرف الفاظ پر کیا جائے گا۔

لہذا آج کے دور میں تین طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوں گی۔ اِسی جواب کوصحیح  مسلم کے عظیم شارح امام  نووی ؒنےصحیح ترین جواب  قرار دیا۔ شرح مسلم شریف میں امام نوویؒ  کی خود نوشتہ عبارت یہ ہے

وأما حديث ابن عباس فاختلف العلماء في جوابه وتأويله فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر إذا قال لها أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ينو تأكيدا ولا استئنافا يحكم بوقوع طلقة لقلة إرادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو ارادة التأكيد  فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه وكثر استعمال الناس بهذه الصيغة وغلب منهم إرادة الاستئناف بها حملت عند الإطلاق على الثلاث عملا بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر.( شرح النووي على مسلم ، يحيى بن شرف النووي ( م: 676هـ) ( 10 / 71)دار إحياء التراث العربي)

        چنانچہ  چودہ سو سال سے اسی کے مطابق فتوی دیا جارہا ہے۔

دوسرا اعتراض :         مسند امام احمد بن حنبل ؒ میں حضرت رکانہ ؓ کی روایت کو بنیاد بنا کر  یہ قول اختیار کر نا کہ تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے اورتین کو ایک قراردینا۔ وہ حدیث  مسند امام احمد میں ’’حديث العباس بن عبد المطلب‘‘کے عنوان کے تحت مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ ہے

حدثنا سعد بن إبراهيم ، حدثنا أبي ، عن محمد بن إسحاق ، حدثني داود بن الحصين ، عن عكرمة ، مولى ابن عباس ، عن ابن عباس ، قال : طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد ، فحزن عليها حزنا شديدا ، قال : فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف طلقتها ؟ قال : طلقتها ثلاثا ، قال : فقال : في مجلس واحد ؟ قال : نعم قال : فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت قال : فرجعها فكان ابن عباس : يرى أنما الطلاق عند كل طهر(المسند لأبي عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني( م: 241هـ)(  4 /215 ) مؤسسة الرسالة)

جواب:         اس حدیث کو بھی بنیاد بناکرتین طلاقوں کو ایک قرار دینا درست نہیں۔ اس لئے کہ شرّاح ِ حدیث نے اس حدیث کے بھی متعدد جوابات دیے ہیں اور طالب ذکر کئے ہیں۔ چند ایک ملاحظہ فرمائیں

نمبر ۱۔ اس حدیث میں بھی  اضطراب پایا جاتا ہے،کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت رکانہ ؓنے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور بعض روایات میں ہے کہ اُنہوں نے اپنی بیوی کو لفظ’’بتّة‘‘سے طلاق دی تھی۔ ’’طلاقِ بتّة‘‘سے مراد وہ طلاق ہے جس میں ایک سے تین تک کی گنجائش ہوتی ہے، یعنی اگر ایک طلاق کی نیت ہو توایک اور تین کی نیت ہو تو تین واقع ہوں گی۔ اسی اضطراب کی وجہ سے اس روایت کے بارے  میں علماء  کرام نے مختلف اقوال  اختیار کیے ہیں ،مثلاً

نمبر ۲۔امام بخاری ؒ نے اسے  معلول قرار دیا ہے۔

نمبر ۳۔علامہ ابنِ عبد البر ؒنے  اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

        نمبر۴۔حضرت امام ابو بکر جصاص ؒ اور علامہ ابن الہمامؒ نے اسے منکر کہا ہے۔

التلخيص الحبير ، أبو الفضل أحمد بن علي(م: 852هـ)(3/ 458)دار الكتب العلمية
وصححه أبو داود وابن حبان والحاكم وأعله البخاري بالاضطراب.وقال ابن عبد البر في التمهيد ضعفوه.وفي الباب عن ابن عباس رواه أحمد والحاكم، وهو معلول أيضا
أحكام القرآن لأبي بكر الرازي الجصاص (م: 370هـ) (2 / 86) دار إحياء التراث العربي
وقد قيل أن هذين الخبرين منكران
 فتح القدير، العلامة  ابن الهمام (المتوفى: 861هـ)(7 / 461) دار الفكر
وأما حديث ركانة فمنكر

 اس حدیث کے منکر ہونے کی وجہ یہ ہے یہ روایت ان معتبر اور ثقہ راویوں کی بیان کردہ روایت  کے خلاف ہےجنہوں نے لفظِ’’ بتّة‘‘ کے ذریعہ طلاق دینا نقل کیا ہے۔ حضرت امام ابو داؤدؒ نے بھی اس کو ترجیح دی ہے کہ حضرت رکانہ ؓنے اپنی بیوی کو ’’طلاقِ بتّة ‘‘ دی تھی،کیونکہ حضرت رکانہ ؓ کے گھروالوں نے اس کو روایت کیاہے اور گھروالے گھر کے قصہ کو بنسبت دوسروں کے زیادہ جانتے ہیں

قال أبو داود وهذا أصح من حديث ابن جريج أن ركانة طلق امرأته ثلاثا لأنهم أهل بيته وهم أعلم به. (السنن لأبى داود سليمان بن الأشعث السجستاني(م: 275هـ)(2 / 263) المكتبة العصرية)

   خلاصہ یہ کہ حضرت رکانہ ؓ نے اس لئے رجوع نہیں کیا تھا کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو حضورﷺ نے ایک طلاق شمار کر کےان کو رجوع کا حکم دیا ، بلکہ اس وجہ سے اُنہوں نےرجوع کیا تھا کہ اُنہوں نے  اپنی بیوی کو ایک طلاق کی نیت سے ’’طلاقِ بتّة‘‘ دی تھی۔(ماخذ  درسِ ترمذی،مفتی محمد تقی عثمانی(3/421)مکتبہ دار العلوم کراچی)

        نمبر ۲۔ حدیثِ رکانہؓ کے راوی حضرت عبد اللہ ابن ِ عباس ؓ ہیں ، اُن کا اپنا فتوی تین طلاقیں دینے سے متعلق جمہور کے موافق اورمذکورہ روایت کے خلاف ہےجوکہ ’’صحابہ کرام ؓ کے فتاوی اور آثار‘‘ کے عنوان کے تحت ذکرگزر چکا ہے۔

 امام طحاوی ؒ ایک اصول ذکرفرماتے ہیں کہ کسی راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف خود عمل کرنا یا کسی اور کو  اُس کے خلاف فتوی دینے سے وہ روایت قابل ِ استدلال نہیں رہتی۔ لہٰذا حضرت ابنِ عباسؓ  کا اپنی روایت کے خلاف فتوی دینا اس بات کی علامت ہے کہ وہ روایت آپ ؓکےہاں قابل ِ عمل نہیں رہی اور ’’سسن أبو داؤد ‘‘ کے حوالے سے حضرت ابنِ عباسؓ کی ایک  روایت نقل کی جا چکی جس میں آپؓ نے تین طلاق کے بعد رجوع کرنے کو منسوخ قرار دیا، اس روایت سے بھی   حدیثِ رکانہؓ کے قابلِ عمل نہ ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ امام طحاوی ؒکے الفاظ یہ ہیں

وأما الطحاوي فقال …والراوي إذا عمل بخلاف روايته أو أفتى بخلافها لا يبقى حجة لأن الصحابي لا يحل له أن يسمع من النبي شيئا ويفتي أو يعمل بخلافه. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، العلامةبدر الدين العينى (م: 855هـ)(3 / 41) دار إحياء التراث العربي)

خلاصہ یہ ہے کہ مسند امام احمدؒ کی حدیث سےبھی  تین طلاقوں کو ایک قابل ِ صلح طلاق  قرار دیے جانے پر استدلال درست نہیں ہے۔ چونکہ اس حدیث کے بارے  امام ابو داؤدؒ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ حضرت رکانہ ؓ نے اپنی بیوی کو ’’طلاقِ بتّة‘‘دی تھی ،لہذا خودشیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی   رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس حدیث سے تین طلاق کو ایک قرار دینے کے مسئلہ پر استدلال درست نہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانی   رحمہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ یہ ہیں

الثالث أن أبا داود  رجح أن ركانة إنما طلق امرأته البتة كما أخرجه هو من طريق آل بيت ركانة وهو تعليل قوي لجواز أن يكون بعض رواته حمل البتة على الثلاث فقال طلقها ثلاثا فبهذه النكتة يقف الاستدلال بحديث ابن عباس. (فتح الباري للعلامة ابن حجرالعسقلاني(م: 852 هـ ) (9 / 363) دار المعرفة)

تیسرا  اعتراض :         معترضین کا اپنے مؤقف کی تائید  میں علمائے احناف میں سے حضرت ا بن مقاتلؒ کے بارے میں یہ کہنا  کہ اُن کا فتوی بھی اسی کے مطا بق ہے کہ ایک مجلس میں یکبارگی یا الگ الگ تین طلاقیں دینے سے ایک قابل ِ صلح طلاق  واقع ہوتی ہے۔ چنانچہ عظیم محدث اور بخاری شریف کے معروف شارح  علامہ عینی ؒنے ’’عمدة القاري شرح صحيح البخاري‘‘میں  ابنِ مقاتل کا یہی مؤقف ذکر فرمایا ہے،حتی  کہ امام نووی ؒنے تومسلم شریف کی شرح میں حضرت ابنِ مقاتلؒ کایہ قول بھی  نقل  فرمایا ہے،جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ اکھٹی تین طلاقیں دینے کی صورت میں سرے سے طلاق واقع ہونے کے قائل ہی نہیں تھے۔

جواب : اگر بالفرض حضرت ا بن مقاتل ؒ کا وہی قول ہو جس کا معترضین حوالہ دیتے ہیں تو   اِس با رے میں   بحث و مباحثہ اورتحقیق میں جائے بغیر سادہ، آسان اورمختصر الفاظ میں یہ عرض ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں،تین ہی شمار ہوتی ہیں اوریہ با ت قرآن و سنّت اوراجماع سے ثابت کی جاچکی ہے، اس کے علاوہ صحابہ کرام ؓکے واضح فتاوی بھی اس سلسلے میں ذکر کیے جا چکے۔ ان سب کے خلاف ایک مجلس کی تین طلاقوں کے سلسلے میں ہمارے لئےحضرت ا بن مقاتل ؒیا کسی اورقابل ِ احترام  شخصیت کے قول پر عمل کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

عمدة القاري للعلامةبدرالدين العينى (م: 855هـ)(20/ 233) دار إحياء التراث العربي
 وفيه خلاف. فذهب طاوس ومحمد بن إسحاق والحجاج بن أرطأة والنخعي وابن مقاتل والظاهرية إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة،وفيه خلاف فذهب طاووس ومحمد بن إسحاق والحجاج بن أرطأة والنخعي وابن مقاتل والظاهرية إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة
شرح النووي على مسلم،محيي الدين يحيى بن شرف النووي (م: 676هـ) دار إحياء التراث العربي
وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث وقال طاوس وبعض أهل الظاهر لا يقع بذلك إلا واحدة وهو رواية عن الحجاج بن أرطاة ومحمد بن إسحاق والمشهور عن الحجاج بن أرطاة أنه لا يقع به شيء وهو قول بن مقاتل
   فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، محمد بن صالح عالم وفقيه سعودي(م: 1421 هـ)  (5/ 95) المكتبة الإسلامية
أن الطلاق الثلاث بكلمة واحدة أو بكلمات متعاقبات حرام؛ لأنه ثبت من حديث محمود بن لبيد أن رجلًا طلق زوجته ثلاثًا بكلمات أو بكلمة فقام النبي صلى الله عليه وسلم غضبان وخطب الناس وقال: “أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟ ! “، وهذا إنكار بيَّن واضح، ويدل لذلك أيضًا أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما رأى الناس قد تتايعوا في هذا الأمر وكثر فيهم الطلاق الثلاث ألزمهم به فقال: إن الناس قد تعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم، وهذا يدل على أنه حرام، وإلا لما عاقبه عمر على ذلك
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس