بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاقِ بائن کی صورت میں عدت گزر جانے کے بعد کہے گئے طلاق کے الفاظ کا حکم

سوال

شوہر کا بیان: یہ واقعہ ۸ ماہ پہلے کا ہے کہ ہماری میان بیوی کی لڑائی ہوئی جس میں میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاط بول دیے کہ “میں تمہیں فارغ کرتا ہوں تم اپنے گھر والوں کو بلا لو” یہ جملہ غصہ کی حالت میں بولا تھا اور طلاق کی نیت سے بولا تھا اس وقت میری بیوی حمل سے تھی اس کے بعد ہماری صلح ہو گئی یعنی ہم آپس میں میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، اور دوبارہ نکاح وغیرہ نہیں کیا تھا۔ اب پندرہ دن پہلے پھر دوبارہ لڑائی جگڑا ہوا تو اس میں میں نے یہ الفاظ بول دیے تھے کہ “میں نے تمہیں فارغ کیا”” میں نے تجھے طلاق دی اب کر لو جو کرنا ہے” ۔
بیوی کا بیان:۸ ماہ پہلے میرے شوہر نے جب یہ الفاظ بولے تھے تو میں حمل سے تھیں پہلی بار یہ جملہ بولا کہ”میں نے تجھے فارغ کیا بلالے اپنے گھر والوں کو” کل یہ کہا کہ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں نے تمہیں فارغ کیا”اور کہا کہ اب جو کرنا ہے کر لے۔
تنقیح:دوسری مرتبہ شوہر نے جو الفاظ بولے تھے وہ دورانِ حمل بولے تھے یا وضع حمل کے بعد۔
جواب تنقیح: دوسری مرتبہ والے الفاظ وضع حمل کے تقریباً ساڑھے تین ماہ بعد کہے تھے۔

جواب

میاں بیوی دونوں کے متفقہ بیانات سے معلوم ہو رہا ہے کہ شوہر نے پہلی مرتبہ جب طلاق کی نیت سے بیوی کو کہا “میں تمہیں فارغ کرتا ہوں، تم اپنے گھر والوں کو بلا لو” اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی تھی، اس کے بعد جب نکاح نہیں ہوا اور عدت بھی گزر گئی توان دونوں کے لیے اکٹھا رہنا بھی جائز نہیں تها اور دوباره طلاق يا فارغ كے لفظ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی لہذا اب موجودہ صورتحال کے تناظر میں وہ دونوں شرعی گواہوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی کے ساتھ نئے حق مہر کے عوض نکاح کر کے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ اب شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ گیا ہے لہذا احتیاط کرے نیز سابقہ زندگی میں طلاق بائن ہونے کے بعد نا جائز اکٹھے رہنے پر دونوں خوب توبہ و استغفار کریں۔
الفتاوى الهندية (1/ 374) دار الفكر
(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام
وحاشية ابن عابدين (3/ 470) دار الفكر-بيروت
 (قوله: من ظهار) لأنه شبهها في الحرمة بأمه وهو إذا شبهها بظهرها يكون مظاهرا فبكلها أولى نهر (قوله: أو طلاق) لأن هذا اللفظ من الكنايات، وبها يقع الطلاق بالنية، أو دلالة الحال على ما مر، وقوله: كأمي تأكيد للحرمة؛ ولم أر ما لو قامت دلالة على إرادة الطلاق، بأن سألته إياه وقال نويت الظهار نهر
الدر المختار (3/ 296)
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب
البناية شرح الهداية (5/ 474) دار الكتب العلمية
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها
الدر المختار (6/ 368) دار الفكر-بيروت
وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام
الفتاوى الهندية (1/ 472) دار الفكر
 إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة بعد انقضائها
الدر المختار (3/ 409)دارالفكر
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس