بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق،طلاق،طلاق کے الفاظ بولنا

سوال

ایک ماہ ہوگیا میرا گھریلو مسئلہ چل رہا تھا میری بیوی سے بات نہیں ہوتی تھی آج ہوئی تو میں نے اس سے جذبات میں آکر بات کی تو میں نے 3 بار طلاق کا لفظ بول دیا میرے الفاظ تھے آپ اپنی منوا رہی ہو میرے لیے طلاق طلاق طلاق ہے اس نے 2 بار سنا تیسری بار نہیں سنا آپ اس مسئلے کا کوئی حل بتا دیں۔

جواب

طلاق، طلاق، طلاق

صورت مسئولہ میں جب آپ نے طلاق کے الفاظ تین بارکہے تو آپ کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہےخواہ اس نے سنا ہو یا نہیں، اس کے بعد وہ آپ پر حرام ہو چکی ہے ۔موجودہ صورت حال میں نہ تو آپ اس سے رجوع کر سکتے ہیں اور نہ ہی نیا نکاح کر کے اکٹھےرہ سکتے ہیں اور عورت عدت گزارنے کے بعد اپنے اولیاء کی سر پرستی میں کسی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے ۔
(ماخذہ:تبویب رجسٹر نقل فتاوٰی دارالافتاءجامعہ احسان القرآن 16/23)
[البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
الفتاوى الهندية (1/ 390)
متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق
 الفتاوى الهندية (1/506)
 وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
البحر الرائق (3/ 271)
ونقل السيد الحموي عن الغاية معزيا إلى الجواهر الطلاق لي لازم يقع بغير نية
كذا في رد المحتار (3/ 253)
رد المحتار (3/ 248)
من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية
الدر المختار (3/ 293)
كرر لفظ الطلاق وقع الكل
رد المحتار (3/ 293)
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق
فتاوٰی محمودیہ (12/454)
فتاوٰی دارالعلوم کراچی (3/548)
فتاوٰی عثمانی (2/441)
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس