بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

صلح کے موقع پر دعوت کرنا

سوال

ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ ہمارےہاں رواج ہےکہ جب چندلوگ دو فریقین کےہاں صلح کےلیےجاتےہیں توصلح کےبعدان کےہاں کھانےکی دعوت ہوتی ہے،مرغی،یابکرےیاگائے،بیل حسب موقع۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ اس کھانےکی شرعی حیثیت کیاہے؟یہ جائزہےیاناجائز؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ موقع پردعوت (کھانےیا کھلانے)کی اس شرط کے ساتھ اجازت ہوگی کہ وہ دعوت کسی قسم کے دباؤ کی وجہ سےیا رشوت کے طورپر نہ ہو ۔بلکہ طیبِ خاطر( خوشدلی) سے ہو۔
صحيح البخاري (2/906) مکتبة الشیخ
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يؤذ جاره، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه۔
الجامع للترمذي (1/248) مکتبه عشره مبشرہ
عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي.هذا حديث حسن صحيح۔
سنن الدارقطني (3/22) دارالکتب العلمیه بیروت
عن عمرو بن يثربي , قال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بمنى فسمعته يقول:  «لا يحل لامرء من مال أخيه شيء إلا ما طابت به نفسه»۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس