ایک خاتون جن کے والد کاانتقال ہوگیاہے اور والد کے چھوڑے ہوئے مکان میں ان کاوراثتی حصہ ہے اس مکان میں خاتون کے بھائی رہائش پذیر ہیں اور فی الوقت ترکہ کی تقسیم کادورتک کوئی امکان نہیں، نہ ہی بھائی اس کا تذکرہ کرتے ہیں ایسی صورت میں یہ خاتون زکوٰۃلے سکتی ہیں؟جبکہ اس وراثتی حصے کے علاوہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو زکوٰۃلینے سے مانع ہو۔
مذکورہ صورت میں اس عورت کے لئے زکوۃ لینا جائز ہے، البتہ اگر وراثت میں مذکورہ مکان کے علاوہ اس قدر سونا، چاندی ،نقدی یا ضرورت سے زائد سامان نہ ہو کہ اس سے آپ کاحصہ مقدارِ نصاب تک پہنچ جائے۔تو اس صورت میں یہ تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کریں کہ یہ مال کس کے قبضے میں ہے اور وہ ادا کرنے سے منکر ہے یا نہیں ۔
البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(2/419 )رشیدیہ
والأولى أن يفسر الفقير بمن له ما دون النصاب كما في النقاية أخذا من قولهم يجوز دفع الزكاة إلى من يملك ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام، وهو مستغرق في الحاجة… ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من ذلك، ولكنه لا يطيب للآخذ؛ لأنه لا يلزم من جواز الدفع جواز الأخذ كظن الغني فقيرا … وهو غير صحيح؛ لأن المصرح به في غاية البيان وغيرها أنه يجوز أخذها لمن ملك أقل من النصاب كما يجوز دفعها
الفتاوى الهندية،لجنة العلماء برئاسة نظام الدين البلخي(1/189)دارالفكر
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي
فتاوى اللجنة الدائمة،(8/178)رئاسةإدارةالبحوث العلمية والإفتاء
جميع ما خلفه الميت من مال وعقار تنتقل ملكيته لورثته بمجرد موته، وجميع الأحكام المتعلقة بهذا المال من زكاة ونحوها تتعلق بذمم الورثة لا الميت. وعلى ذلك فإنه إذا حال الحول على التركة من حين تمكن الورثة من قسمتها فإنه يجب على كل وارث أن يزكي نصيبه إذا بلغ نصابا وإن تبين أن والدك لم يخرج زكاة ماله أخرجت زكاته عن السنوات التي لم يؤد زكاتها قبل قسمة التركة إبراء لذمته