قرآن و سنت کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے جس میں ایک گھڑی نہ تو تاخیر ہو سکتی ہے نہ ہی تقدیم البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اعمال ایسے ہے جن سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہےاور بعض سے یہ دونوں گھٹ جاتے ہیں یہ کمی اور زیادتی اس کتاب تقدیر میں ہوتی ہے جو فرشتوں کے ہاتھ میں یا ان کے علم میں ہے جس کو تقدیر معلق کہا جاتا ہے اس تقدیر معلق کے اوپر ایک اور تقدیر مبرم ہے جو اللہ تعالی کے پاس ہے اس میں وہ احکام لکھے جاتے ہیں جو اعمال شرائط یا دعا کے بعد آخری نتیجے کہ طور پر ہوتے ہیں اس لیے وہ کمی اور زیادتی سے بالکل بری ہے ۔
قال اللہ تعالی
{ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ } [الأعراف: 34]
سنن الترمذي (4/ 16)
عن سلمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يرد القضاء إلا الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر صحيح مسلم :كتاب البر والصلة والآداب، باب صلة الرحم وتحريم قطيعتها قال ابن شهاب: أخبرني أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «من أحب أن يبسط له في رزقه، وينسأ له في أثره فليصل رحمه» ۔
تکملۃ الملھم(5/186)دار العلوم کراتشی
قولہ او ینسا لہ فی اثرہ ینسا مہموز صیغۃ مجھول من الانسا وہو التاخیر والاثر الاجل لانہ تابع للحیاۃ فی اثرھا والمراد منہ طول العمر وحاصلہ ان من یتعود صلۃ الرحم فانہ یبسط لہ فی الرزق ویزاد فی عمرہ اما استشکالہ بان الارزاق والاجال مقدرۃ من اللہ تعالی لا تزید ولا تنقص فجوابہ مشھور بان ھذہ الزیادۃ والنقصان بالنسبۃ للتقدیر المعلق اما التقدیر المبرم فقد جف القلم بما ھو کائن واجاب بعض العلماء عن ھذا لاشکال لان المراد الحدیث لیس ھو الزیادۃ فی عدد ایام العمر وانما المراد حصول البرکۃ فیہ ۔۔۔والجواب الاول اولی وارجح۔