سنی حنفی مرد روافض عورت کےساتھ نکاح کرسکتاہےیانہیں ،اگرکوئی علامہ ایساکرےتواس کےلیےکیاحکم ہوگیا۔
اگرکسی مردیا عورت کے عقائدکفریہ ہوں ،مثلاًحضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتےہوں، یا موجودہ قرآن کریم کو کامل نہ سمجھیں، یا یہ سمجھیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی یعنی وحی تو حضرت علی پرلانی تھی ،لیکن بھول کر حضرت محمد ﷺ پر لے آئےیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کاانکار کرتے ہوں یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچ مانتے ہوں یا ائمہ کرام کو انبیاء علیہم السلام سے افضل سمجھتے ہوں،یا اسی طرح کوئی اور صریح مخالفِ قرآن کفریہ عقیدہ رکھتےہوں تو وہ باجماع ِ امت کافر اوردائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؛جس سے نہ نکاح جائز ہےاورنہ ہی اس سےنکاح منعقد ہوتاہے۔خواہ وہ کو ئی بھی شخص ہو ۔
اگر نکاح کر لیا جائے تو فوراً علیحدگی ضروری ہےاور اس گناہ پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائےاور توبہ و استغفار کی جائے۔ کسی عالم آدمی کے لئے ایسا کر نے میں زیادہ سخت گناہ ہو گا۔
اور اگر کفریہ عقیدہ نہ ہوبلکہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاءِ ثلاثہ پر فضیلت دیتے ہوں تو اس سے بھی نکاح نہیں کرنا چاہئے ، لیکن جب اس سے نکاح کرلیا گیاتو نکاح تومنعقد ہوگیا۔اب شوہر کو چاہیے کہ اس عورت کی اصلاح کی کوشش کرتارہے،اگر اصلاح نہ ہو تو طلاق دےسکتاہے۔
قال الله تعالى: [البقرة : 221]
وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين(م: 1252هـ) (4/ 237)سعيد
نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة -رضي الله تعالى عنها- أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
رد المحتار،العلامة ابن عابدين(3/ 46)سعيد
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام۔
فتح الباري لابن حجرأحمدبن علي العسقلاني(م: 852هـ)(10/497)دارالمعرفة
فمن كان من أهل العصيان يستحق الهجران بترك المكالمة كما في قصة كعب وصاحبيه.فقط۔