بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شیعہ کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے سے نکاح کا حکم

سوال

ایک آدمی اہل سنت تھا لیکن عمر کی آخری حصہ میں اہل تشیع کی طرف میلان ظاہر کیا اور یہ وصیت کی کہ میرا نماز جنازہ اہل تشیع امام پڑھائے گا جبکہ اس کے دیگر ورثاء اہل سنت ہیں ، کیا اس کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ اور اگر اہل سنت امام اس کا جنازہ پڑھالے تو کیا نکاح ٹوٹ جائے گا یا نہیں اور اسی طرح جنازہ پڑھانے سے گناہگار تو نہیں ہوگا جبکہ اس کو معلوم ہے کہ میت شیعہ کی ہے۔

جواب

یہ بات واضح نہیں ہے کہ فوت ہونے والا شخص کفریہ عقائد کا حامل تھا یا نہیں ؟ اس لیے اگر کوئی اس صورت میں اسکا جنازہ پڑھتا یا پڑھاتا ہے اس سے تو نکاح نہیں ٹوٹے گا البتہ اگر کوئی میت کے کفریہ عقائد کو جانتے ہوئے اس کو مسلمان جان کر اسکی نماز جنازہ پڑھتا ہے یا پڑھاتا ہے تو اس صورت میں اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ واضح رہے کہ میت کی طرف سے کی گئی نماز جنازہ کی وصیت باطل ہے اسکا کوئی اعتبار نہیں۔
قال اللہ تعالی
{ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ} [التوبة: 84]
احکام القرآن للتھانوی (6/ 98) ادارہ اشرف التحقیق ۔لاہو ر
ومما ینبغی ای یعلم فی ھذا المقام ان الفقہاء ذکرو ا ان الصلوٰۃ لاتجوز علی الکافر بحال وان کان لہ ولی مسلم :حتی قالو:انہ فیمن اشبہ علیہ انہ مومن او کافر لا یصلی علیہ لان الصلوٰۃ علی الکافر لاتجوز بحال وترک الصلوٰۃ علی المومن جائز فی الجملۃ۔
الفتاوی الھندیۃ (1/179) بیروت
وفی الکبری المیت اذا اوضی باین یصلی علیہ فلان فالوصیۃ باطلۃ وعلیہ الفتوی۔
الدر المختار (2/207)سعید
(وشرطھا)ستۃ۔۔۔۔۔ اسلام المیت و طھارتہ۔
رد المحتار (6/364)رشیدیۃ
نعم ‌لا ‌شك ‌في ‌تكفير من قذف السيدة عائشة – رضي الله تعالى عنها – أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن۔
المحيط البرهاني(3/82)بیروت
وروي أنه لما مات أبو طالب جاء علي رضي الله عنه إلى رسول الله عليه السلام وقال: إن عمك الضال قد مات فقال عليه السلام: «‌اغسله ‌وكفنه وادفنه وما تحدث به حدثاً حتى تلقاني» ، أي: لا تصلِ عليه؛ ولأن الصلاة على الميت دعاء واستغفار له، والاستغفار للكافر حرام قال الله تعالى: [اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً]۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس