کیا سنی شیعہ کا نکاح نہیں ہوسکتا؟ کونسے شیعہ لڑکے سے نکاح نہیں ہوتا؟ اگر کوئی بارہ امام مانتا ہو کہ وہ معصوم ہے اللہ کے طرف سے ہے۔ باقی کوئی کفریہ عقائد نا ہو تو اس سے نکاح جائز ہے سنی لڑکی کا یا نہیں؟ اگر لڑکا ہر چیز سے زبانی انکار کریں تو کیا نکاح جائز ہوگا۔
اگر لڑکا نکاح سے پہلے ہر چیز کا انکار کریں کہ یہ قرآن میں نہیں ہے تو میں نہیں مانتا اور شادی کے بعد وہ دوبارہ وہی عقائد رکھے جو پہلے تھے تو اس صورت میں نکاح کا کیا ہو گا؟ کیا اس سب کا گناہ لڑکی کو ہوگا؟ اگر لڑکا زبان سے انکار اور دل سے وہی عقائد مانتا ہو اور لڑکی اس کے زبانی انکار پر یقین کریں نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟
جو شخص کفریہ عقائد رکھتا ہو ، مثلاً :قرآن مجید میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو، یا جبرائیل علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگاتا ہو وغیرہ۔ تو ایسے شخص کے ساتھ مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز اور باطل ہے۔ اگرچہ وہ اپنی زبان سے ان کفریہ عقائد کا انکار کرے۔ چونکہ عموماً یہ لوگ جھوٹ کو حلال سمجھتے ہوئے تقیہ بھی کرتے ہیں اور اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ نکاح کرنے سے بہرحال اجتناب کرنا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ بارہ امام من جانب اللہ معصوم ہے تو وہ شخص گمراہ ہے اس شخص سے بھی سنی لڑکی کا نکاح ہرگز نہ کیا جائے
رد المحتار (4/ 134)رشيديه
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر
رد المحتار(4/ 134)رشيديه
لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة – رضي الله تعالى عنها – أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن
بدائع الصنائع (3/ 465)العلميه
إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي
الفتاوى الهندية (1/ 310)العلميه
ولا يجوز تزوج المسلمة من مشرك ولا كتابي، كذا في السراج الوهاج
مختصر الفتاوى المصرية لابن تيميه(558) العلميه
ومن ادعى العصمة لأحد فى كل ما يقوله بعد الرسول صلى الله عليه وسلم فهو ضال، و فى تكفيره نزاع وتفصيل