میرے والد اہل تشیع سے ہے، میں سنی ہوں، بچپن سے میں اہل سنت و الجماعت سےمنسلک ہوں، میں دل و زبان سے اقرار کرتا ہوں کہ میں سنی ہوں، میرا عقیدہ سنی مسلک کا ہے، میرے دوست رشتہ دار محلے والے سب گواہ ہیں۔ میں اب ایک سنی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن لڑکی کے والد یقین نہیں کرتے وہ کہتے ہے کہ میری اور میری بیٹی کی قبر خراب ہو جائے گی اگر میں نے یہ رشتہ کیا۔ میں نے کئی فتوے لیے ،جس میں یہ بات ہے کہ لڑکا سنی ہو تو نکاح ہو سکتا ہے۔ لڑکی کے والد چاہتے ہیں کہ میں کسی جامعہ دار العلوم جا کر اپنے عقیدہ کا مفتی کے سامنے بھی اقرار کروں ،میں اس کے لیے بھی تیار ہوں، میرے والد اہل تشیع سے ہے ۔عقیدہ کفریہ نہیں ہے، میری والدہ سنی ہے۔ مجھے اس بات کا جواب چاہیے کہ
کیا میرے ساتھ اس لڑکی کا شرعی نکاح ہو سکتا ہے؟
اگر لڑکی کا والد یہ نکاح کرتا ہے تو اس کو گناہ ہو گا؟
کیا اس نکاح سے لڑکی کی قبر خراب ہو گی؟
کیا شیعہ سنی کا نکاح نہیں ہو سکتا؟
میں لڑکی کا غیر کفو ہوں، اگر لڑکی کے والد میر ے ساتھ نکاح کروا دے تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا؟
لڑکا لڑکی کے کفو کا نہ ہو اور لڑکی کا والد نکاح کریں ایسا نکاح شرعاً منعقد ہوتا ہے؟
میرا اس لڑکی سے پہلے کورٹ میرج ہوا تھا جو کہ غیر کفو کی وجہ سے منعقد نہیں ہوا۔ مہربانی فرما کر مجھے میرے تمام سوالوں کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں دیں۔
سائل اگر واقعۃًسنی ہے اور اہل سنت و الجماعت کے عقائد پر کار بند ہے تو اس کے ساتھ سنی لڑکی کا نکاح درست ہے لیکن اگر وہ سنی نہیں ہے بلکہ شیعہ ہے اور تقیہ کے طور پر خود کو سنی ظاہر کرتاہے تو سنی لڑکی کا اس سے نکاح ہر گز نہ کروایا جائے۔
جو شخص کفریہ عقائد رکھتا ہو مثلاً قرآن مجید میں تحریف کا قائل ہو، یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو، یا جبرائیل علیہ السلام سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتا ہو، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگاتا ہو وغیرہ۔ تو ایسے شخص کے ساتھ مسلمان لڑکی کا نکاح ناجائز اور باطل ہے۔ اگرچہ وہ اپنی زبان سے ان کفریہ عقائد کا انکار کرے۔ چونکہ عموماً یہ لوگ جھوٹ کو حلال سمجھتے ہوئے تقیہ بھی کرجاتے ہیں اور اس کی آر میں اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ نکاح کرنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر لڑکی اور اس کے والد کو یقین ہے کہ یہ لڑکا سنی نہیں تو اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کروانے کی صورت میں دونوں گناہ گار ہونگے۔
رد المحتار (4/ 134)رشيديه
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر
رد المحتار(4/ 134)رشيديه
لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة – رضي الله تعالى عنها – أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن
بدائع الصنائع (3/ 465)علميه
إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما، والنص وإن ورد في المشركين لكن العلة، وهي الدعاء إلى النار يعم الكفرة، أجمع فيتعمم الحكم بعموم العلة فلا يجوز إنكاح المسلمة الكتابي
الفتاوى الهندية (1/ 310)علميه
ولا يجوز تزوج المسلمة من مشرك ولا كتابي، كذا في السراج الوهاج