بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کے حقوق، صلح کی ترغیب، ولی اقرب کے ہوتے ہوئے ولی بعید کا نکاح کرنا

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کو گھر سے نکال دیتی ہے اور خود گھر کی سربراہ بن جاتی ہے ،بیٹیوں کے رشتے وغیرہ خود کرواتی ہے ،بازار بھی خود آنا جانا کرتی ہے ایسی عورت کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

اسلام میں شوہر کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے ،آپ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ :اگر غیراللہ کو سجدہ جائز ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتاکہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ،لہذا مذکورہ عورت کا اپنے خاوند کو گھر سے بے دخل کرنا انتہائی قبیح عمل ہے اور چونکہ عام طور پر گھر شوہر کاہوتا ہے تو اس کو اسی کے گھر سے بے دخل کرنا بھی ظلم ہے ،اسی لیے مذکورہ عورت کو چاہیے کہ وہ شوہر سے صلح صفائی کر لے اور معافی مانگ کر اس کے حقوق کی ادائیگی کرے اور آئندہ حقوق تلفی سے اجتناب کرے ۔
باپ چونکہ بیٹیوں کا قریبی ولی ہے اور اس کی موجودگی میں ماں بغیر اس کے مشورے کے بیٹیوں کا رشتہ کرنے کا حق نہیں رکھتی ،البتہ باہمی مشورہ سے ہو تواس طرح رشتہ کرنا درست ہے ،نیز عورت کا بلا ضرورت اور شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائز نہیں ، ہاں بوقتِ ضرورت شوہر کی اجازت سے پردے کی رعایت کے ساتھ باہر جا سکتی ہے ۔
مسند أحمد، أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني (م:241 هـ) (36/ 312) مؤسسة الرسالة
 عن معاذ بن جبل: أنه لما رجع من اليمن، قال: يا رسول الله، رأيت رجالا باليمن يسجد بعضهم لبعض  ، أفلا نسجد لك؟ قال: ” لو كنت آمرا بشرا يسجد لبشر، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها ۔
الفتاوی الہندیۃ،لجنةعلماء برئاسة نظام الدين البلخي (1/ 283)دار الفكر
 أقرب الأولياء إلى المرأة الابن ثم ابن الابن، وإن سفل ثم الأب ثم الجد أبو الأب، وإن علا، كذا في المحيط۔
الفقه الإسلامي وأدلته،وهبة بن مصطفى الزحيلي (م:8/اگست/2015ء)  (9/ 6703) دار الفكر
قال الحنفية : الولاية هي ولاية الإجبار فقط، وتثبت للأقارب العصبات ،الأقرب فالأقرب؛ لأن «النكاح إلى العصبات» كما روي عن علي رضي الله عنه، وذلك على الترتيب الآتي: البنوة، ثم الأبوة، ثم الأخوة۔
الترغيب والترهيب للمنذري (3/ 37) دار الكتب العلمية
 وروي عن ابن عباس رضي الله عنهما أن امرأة من خثعم أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله أخبرني ما حق الزوج على الزوجة فإني امرأة أيم فإن استطعتوإلا جلست أيما قال فإن حق الزوج على زوجته إن سألها نفسها وهي على ظهر قتب أن لا تمنعه نفسها ومن حق الزوج على الزوجة أن لا تصوم تطوعا إلا بإذنه فإن فعلت جاعت وعطشت ولا يقبل منها ولا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة السماء وملائكة الرحمة وملائكة العذاب حتى ترجع قالت لا جرم ولا أتزوج أبدا۔

فتوی نمبر

واللہ اعلم

)

(

متعلقہ فتاوی

22

/

82

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس